وان گوخ کی پینٹنگ کے رنگ و روغن کی بحالی

وین گوخ کے پینٹنگ کے رنگ وقت کے ساتھ پھیکے پڑ گئے تھے جسے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے بحال کیا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہCourtesy of the Art Institute of Chicago

،تصویر کا کیپشنوین گوخ کے پینٹنگ کے رنگ وقت کے ساتھ پھیکے پڑ گئے تھے جسے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے بحال کیا گيا ہے

امریکہ کے شہر شکاگو میں سائنس دانوں نے ایسی پینٹنگ تیار کی ہے جس میں معروف مصور ونسنٹ وین گوخ کی آرام گاہ کی پینٹنگ میں پھیکے پڑجانے والے رنگوں کو ان کی اصل حالت میں اجاگر کیا گیا ہے۔

وین گوخ نے اپنے کمرے کے اس مشہور منظر پر مشتمل تین مختلف پینٹنگز بنائی تھیں اور تینوں میں کم و بیش ایک ہی طرح کے رنگوں کے امتزاج کا استعمال کیا گیا تھا۔

وقت اور روشنی نے ان پینٹنگز کے رنگوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

سائنس دانوں مختلف النوع تکنیکی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے ہلکے نیلے رنگ کی دیواروں کی جامنی مائل اصل رنگت ڈیجیٹل طریقے سے دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

کمپیوٹر سے تیار کردہ یہ پینٹنگ ’دی آرٹ انسٹیٹیوٹ آف شکاگو‘ میں ہونے والی ایک بہت بڑی نمائش کا حصہ ہو گی۔

اس نمائش کے دوران وین گوخ کی یہ تخلیق دوسری بار نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔

امید کی جارہی ہے کہ اس نمائش کے ذریعے ان احساسات کو زیادہ بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکے گا جنھیں 19ویں صدی کے اس ولندیزی مصور نے اپنے کام میں سمونے کی کوشش کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy of the Art Institute of Chicago

شکاگو انسٹیٹیوٹ کی میلون سینیئر کنزرویشن سائنٹسٹ ڈاکٹر فرانچسکا کیساڈیو کہتی ہیں: ’سائنس رنگوں کے مدھم یا دھیمے پڑجانے والے ذرات کی شناخت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی کنزرویٹرز (آرٹ کے نگہبانوں) اور آرٹ کے مورخّین کی پیش کردہ تشریح بھی ہوتی ہے جو آرٹسٹ کے طریقہ کار اور کام کے بارے میں باریک بینی سے جانتے ہیں۔ جو زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں کہ فن پاروں کے حقیقی حالت سے قریب تر ہونے کے لیے کیا ضروری ہے۔

’یہ اس کی محض ایک تصوراتی کاوش ہے کہ ہمارے خیال میں پھیکے پڑ جانے والے رنگ اصل میں دکھائی دیتے ہوں گے ۔ تاہم ٹائم مشین کی ایجاد کے بغیر یہ ہمیشہ ایک قریب ترین اندازہ ہی ہو سکتا ہے۔‘

پینٹنگ پر کام کرنے والی شکاگو کی ٹیم جانتی تھی کہ وین گوخ کے اپنے بھائی تیو وین گوخ اور دیگر آرٹسٹوں کو لکھے گئے خطوط میں فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں ان رنگوں کے امتزاج میں کہیں کوئی کمی بیشی تھی۔

وین گوخ کی جانب سے ہونے والی خط و کتابت میں انھوں نے بہت وضاحت سے اس بات کا تعین کیا تھا کہ ہر چیز کیسی نظر آنی چاہیے۔

ڈاکٹر کیساڈیو کہتی ہیں کہ ’انھوں نے تمام تفصیلات بیان کی ہیں، فرنیچر زرد رنگ کا ہے، پلنگ پوش سرخ رنگ کا ہے، اور دیواریں بنفشی (جامنی مائل) ہیں جبکہ دروازہ جامنی رنگ کا ہے۔ تاہم اب وہ دیواریں ہلکے نیلے رنگ کی ہیں۔‘

پرانی تصویر میں دیواروں کا رنگ جامنی سے نیلا ہو گيا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپرانی تصویر میں دیواروں کا رنگ جامنی سے نیلا ہو گيا تھا

دیوار پر موجود رنگ کا بہت چھوٹا اور مہین ٹکڑا لے کے اس کا خوردبین کے ذریعے جائزہ لینے کے بعد ٹیم اصل رنگ کی باقیات دیکھ سکتی ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ ان ذرات میں کارمین لیک یا پھر کُوچنیل رنگ کی آمیزش ہے۔

خیال رہے کہ کارمین لیک اور کُوچنیل حشرات الارض کے نام ہیں جن کی سرخی مائل رنگت کے باعث ان کیڑوں کو اس زمانے میں سرخ اور گلابی رنگ کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ گلابی رنگ شوخ ہوتا ہے تاہم وقت کے ساتھ یہ بہت جلد پھیکا پڑ جاتا ہے۔

ڈاکٹر کیساڈیو کہتی ہیں ’بےشک گلابی اور نیلے کو ملایا جائے تو جامنی رنگ بنتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’جب آپ اس پینٹنگ کی نئی شکل دیکھیں گے تو آپ اس احساس کو محسوس کر سکیں گے جو مصور آپ تک پہنچانا چاہتا تھا۔ پینٹنگ کے ذریعے سکون اور ٹھہراؤ کا احساس دیکھنے والے میں منتقل ہونا چاہیے۔ رنگوں کے امتزاج سے ذہنی سکون اور تخیل کا احساس ملنا چاہیے۔ اور جب یہ جامنی رنگ پینٹنگ میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ باقی رنگوں میں بھی توازن پیدا کر دیتا ہے۔ زرد اور جامنی، یہ واقعی پینٹنگ کو منفرد مزاج سے آشنا کر دیتے ہیں۔‘

آرام گاہ کی منظر کشی پر مشتمل تینوں پینٹنگز فرانسیسی شہر آرلز میں سنہ 1880 سے سنہ 1889 کے درمیان پینٹ کی گئی تھیں۔

دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ کنزرویٹرز جانتے ہیں کہ آرلز کے اس گھر کی دیواروں پر اصل میں سفید رنگ و روغن تھا۔