وان گو کی تصویر ’تاحال غائب‘

مصر کے وزیرِ ثقافت کا کہنا ہے کہ قاہرہ کے آرٹ میوزیم سے ولندیزی مصور ونسٹ وان گو کی چوری ہونے والی پچاس ملین ڈالر مالیت کی تصویر تاحال غائب ہے۔
اس سے قبل فاروق حسنی نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں ایک اطالوی جوڑے کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے پاس سے ایک کینوس برآمد ہوا ہے۔
تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ انہیں ’غلط‘ معلومات دی گئیں تھی اور وان گو کی پینٹنگ اب بھی غائب ہے۔
فاروق حسنی کا کہنا تھا کہ وان گو کی اس مشہور تصویر کو جسے ’پوپی فلاور‘ اور ’واز اینڈ فلاور‘ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے سنیچر کو قاہرہ کے محمود خلیل میوزیم سے فریم کاٹ کر چوری کر لیا گیا تھا۔
سنيچر کو اس سلسلے میں ایک اطالوی جوڑے کو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ افراد میوزیم دیکھنے آئے تھے۔
سرکاری نیوز ایجنسی مینا کے مطابق پینٹنگز کی نمائش دیکھنے آئے افراد سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ اطالوی پر جوڑے پر اس وقت شک ہوا جب یہ لوگ نمائش دیکھ کر بیت الخلاء گئے اور جلدی جلدی نمائش چھوڑ کر چلے گئے۔
اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ دونوں اطالوی نوجوان ہیں اور وہ اس گروپ کا حصہ تھے جو نمائش دیکھنے کے لیے قاہرہ گئے ہوئے تھے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ اس جوڑے کو رہا کر دیا گیا ہے یا وہ ابھی بھی حراست میں ہیں۔ مسٹر حسنی نے بتایا کہ سنیچر کو دس افراد یہ نمائش دیکھنے آئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ابھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کن حالات میں یہ پینٹنگز چوری ہوئی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پینٹنگز کو حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس سے قبل 1978 میں یہ پینٹنگز اسی میوزیم سے چوری ہوگئی تھیں لیکن دس برس بعد انہیں کویت سے حاصل کرلیا گیا تھا۔







