آسٹریلوی چڑیا گھر سے نایاب کچھوا غائب

ریڈییٹِڈ کچھوے نسل کے خاتمے اور غیر قانونی شکار کے خطرے سے دوچار ہیں

،تصویر کا ذریعہPerth Zoo

،تصویر کا کیپشنریڈییٹِڈ کچھوے نسل کے خاتمے اور غیر قانونی شکار کے خطرے سے دوچار ہیں

آسٹریلیا میں پرتھ کے چڑیا گھر سے معدومی کے خطرے سے دوچار ایک ریڈییٹِڈ کچھوا لاپتہ ہوگیا ہے۔

ریڈییٹِڈ کچھوے دنیا کی خوبصورت ترین کچھوے کی نسل میں سے ہیں۔

چڑیا گھر کے حکام کے خیال میں اس کچھوے کو چوری کیا گیا ہے اور اِسے غیر قانونی طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔

اس دس سالہ کچھوے کی گمشدگی کا پتہ حکام کو اس وقت چلا جب انھیں اس کا پنجرہ خالی ملا۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ چڑیا گھر سے ریڈییٹِڈ کچھوا لاپتہ ہوا ہے، اِس سے قبل اِسی پنجرے سے سنہ 2011 میں بھی دو کچھوے گم ہوگئے تھے۔

مڈغاسکر کے جزیرے پر پائے جانے والے یہ ریڈییٹِڈ کچھوے نسل کے خاتمے اور غیر قانونی شکار کے خطرے سے دوچار ہیں۔

چڑیا گھر کی خاتون ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چڑیا گھر میں سکیورٹی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ اِس وقت ہم سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے اور صورتحال کی تحقیقات کررہے ہیں۔‘

لاپتہ ہونے والے کچھوے کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ یہ ستارے کی شکل والے خول والا ایک نوجوان کچھوا تھا اور یہ تقریباً 15 سینٹی میٹر (5 انچ) قطر کا تھا۔

اس کا صنفی تعین کرنے کے لیے یہ اب بھی بہت کم عمر ہے۔ غیرقانونی طور پر اندر داخل ہونے کے عمل کا کوئی بھی نشان نہیں ملا ہے۔

چڑیا گھر کی لائف سائنسز کی ڈائریکٹر ماریہ فنگین کو خدشہ ہے کہ لاپتہ کچھوا سمگلنگ کے خطرے سے دوچار ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ہم کچھوے کے لیے شدید خدشات کا شکار ہیں۔ اپنے شاندار خول کی وجہ سے یہ کچھوے غیر قانونی تجارت کا شکار ہیں اور اِن کو باقاعدگی سے سمگل کر کے بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔‘

’ہم اپیل کررہے ہیں کہ کسی بھی شخص کے پاس کوئی معلومات ہے تو وہ آگے آئے۔ ہمارا بنیادی مقصد اِس جانور کی فلاح و بہبود ہے، مقدمہ چلانا نہیں۔‘