’زِکا ویکسین سابقہ اندازوں سے کہیں پہلے تیار ہو سکتی ہے‘

انسانوں پر اس ویکسین کے تجربے کا عمل رواں برس کی آخری ششماہی میں شروع کیا جا سکتا ہے
،تصویر کا کیپشنانسانوں پر اس ویکسین کے تجربے کا عمل رواں برس کی آخری ششماہی میں شروع کیا جا سکتا ہے

زِکا وائرس کی ویکسین پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین ماضی کے اندازوں کے برعکس ایک برس کے اندر اندر تیار کی جا سکتی ہے۔

ویکسین کی تیاری پر کام کرنے والی ایک کمپنی انوویو فارماسیوٹیکل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ویکسین کا تجربہ چھوٹے جانوروں پر کیا جا رہا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ انسانوں پر اس ویکسین کے تجربے کا عمل رواں برس کی آخری ششماہی میں شروع کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل امریکی سائنسدانوں نے خبردار کیا تھا کہزِکا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہونے میں دس برس لگ سکتے ہیں۔

امریکہ کی ٹیکساس یونیورسٹی کے شعبہ طب کے سائنسدان زِکا وائرس پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ ویکیسن دو برس میں تجربات کے لیے تیار ہو جائے لیکن حکام سے اس کے عام استعمال کی اجازت حاصل کرنے کے عمل تک دس برس لگ سکتے ہیں۔

زِکا نامی وائرس ايڈيز جیپٹی (زرد بخار کی وجہ بننے والے مچھر) کے کاٹنے سے جسم میں منتقل ہوتا ہے
،تصویر کا کیپشنزِکا نامی وائرس ايڈيز جیپٹی (زرد بخار کی وجہ بننے والے مچھر) کے کاٹنے سے جسم میں منتقل ہوتا ہے

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاطینی امریکہ میں زکا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 سے 40 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

یہ وائرس اب تک کیریبیئن، شمالی اور جنوبی امریکہ کے 21 ممالک میں پایا گیا ہے جس کے علامات میں بخار، آشوب چشم کی بیماری اور سر درد شامل ہیں۔

اس وائرس کے باعث ہزاروں بچوں میں سنگین پیدائشی نقائص ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر کچھ ممالک نے خواتین کو حاملہ ہونےسے خبردار کیا ہے۔

زِکا نامی یہ وائرس ايڈيز جیپٹی (زرد بخار کی وجہ بننے والے مچھر) کے کاٹنے سے جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ اس مچھر کی وجہ سے ڈینگی بخار اور چکنگنیا (گرم ملکوں میں مچھر کے ذریعے پھیلنے والی ایک بیماری ) نامی بیماری بھی پھیلتی ہے۔