زِکا وائرس سے 40 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ

برازیل اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبرازیل اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے

عالمی ادارۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او نے زکا وائرس کے ’خطرناک‘ حد تک پھیل جانے کے پیش نظر ایک ’ہنگامی ٹیم‘ تشکیل دے دی ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ براعظم جنوبی امریکہ میں زکا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 سے 40 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مارگریٹ چین کا کہنا ہے کہ ’زکا وائرس معمولی خطرے سے ہنگامی صورتحال تک پہنچ گیا ہے اور اس کے دل دہلا دینے والے اثرات ہیں۔‘

ڈاکٹر چین نے متنبہ کیا ہے کہ ’صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ رواں سال ال نینیو موسمی تغیرات کے وجہ سے کئی علاقوں میں مچھروں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

پیر کو اس ہنگامی ٹیم کی ملاقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا زکا وائرس کو عالمی سطح پر خطرے کے طور پر دیکھا جائے یا نہیں۔

خیال رہے کہ اس قبل عالمی سطح پر ہنگامی صورتحال کا اعلان مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلنے کے بعد کیا گیا تھا۔ ایبولا وائرس کے نتیجے میں 11 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

زکا وائرس کے بارے میں سب سے پہلے یوگینڈا میں سنہ 1947 میں معلوم ہوا تھا لیکن یہ وائرس اس سے قبل کبھی بھی اس حد تک نہیں پھیلا تھا۔

مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والا یہ وائرس خطے کے 20 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمچھروں کی وجہ سے پھیلنے والا یہ وائرس خطے کے 20 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے

مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والا یہ وائرس جنوبی امریکی خطے کے 20 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے تاہم برازیل اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

برازیل نے زکا وائرس کا پہلا کیس جنوبی امریکہ میں مئی 2015 میں رپورٹ کیا تھا۔

اس وائرس سے متاثرہ بہت سے افراد میں کوئی علامات نہیں دیکھی گئیں اسی لیے اس کا ٹیسٹ کرنا مشکل ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ برازیل میں ایک اندازے کے مطابق پانچ سے 15 لاکھ افراد متاثر ہیں۔

اسی دوران برازیل میں مائکرو سفیلے سے متاثرہ بچوں کی پیدائش میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برازیلی وزارتِ صحت نے اس بیماری کی وجہ سے غیر معمولی طور پر چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کے 270 واقعات کی تصدیق کی ہے جبکہ ایسے 3448 واقعات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

اس وائرس اور غیر معمولی بیماری کے آپس میں تعلق کی تصدیق تو نہیں ہوئی ہے تاہم ڈاکٹر چین کا نے کہا ہے کہ ’یہ کافی حد تک ممکن ہو سکتا ہے اور کافی خطرناک ہے۔‘