گوگل نے ’سرچ انجن کے لیے ایپل کو ایک ارب ڈالر ادا کیے‘

،تصویر کا ذریعہGoogle
مالیاتی جریدے بلوم برگ کے مطابق سنہ 2014 میں گوگل نے اپنے حریف ایپل کو اس کی آئی او ایس ڈیوائسز پر گوگل سرچ آپشن رکھنے کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کیے۔
عدالتی کارروائی کی تحریر کے مطابق کاپی رائٹ کے مقدمے میں مبینہ طور پر گوگل اور سلی کون ویلی کی کمپنیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے ریفرنس بھی شامل تھے۔
اس مبینہ معاہدے کے مطابق گوگل آئی او ایس ڈیوائسز کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن میں سے ایپل کو 34 فیصد ادا کر رہا تھا۔
اس سارے معاملے پر گوگل اور ایپل نے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
بی بی سی ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکی۔
بلوم برگ نے مزید کہا ہے کہ عدالتی کارروائی کی دستاویز کو بعد میں ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اوریکل کارپوریشن کی جانب سے دائر مقدمے جس میں کمپنی نے دعویٰ کیا ہے گوگل نے اینڈروئڈ بنانے کے لیے اس کے جاوا سافٹ ویئر کا استعمال کیا لیکن اسے رقم ادا نہیں کی۔ اس مقدمے کی کارروائی عدالت میں جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماضی میں مورگن سٹینلی جیسی تجزیہ کار کمپنیوں نے بھی ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کا ذکر کیا تھا لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس ادائیگی کے بارے میں کسی عدالتی دستاویز میں ذکر ہوا ہے۔
ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار کرس گرین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیوائس پر اپنی مرضی کا براؤزر یا سرچ انجن رکھوانا انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔‘
تاہم کرس گرین کا مزید کہنا تھا کہ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کمپنیاں ہارڈویئر بنانے والے کاروباری حضرات کو سافٹ ویئر ڈالنے کے لیے کہتی ہیں اور بعض اوقات اس کے لیے ادائیگی حاصل ہونے والی آمدنی میں حصہ دے کر کی جاتی ہے۔







