خاتون کا دماغ ’ہمدردانہ‘مرد کا ’انتظامی‘

،تصویر کا ذریعہSPL
- مصنف, ڈاکٹر مائیکل موسلے
- عہدہ, بی بی سی
آپ کا دماغ ’مادہ‘ ہے یا ’نر‘؟
کیا واقعی مردوں اور خواتین کے دماغوں میں کوئی فرق ہوتا ہے؟
جب بھی مجھے اس پیچیدہ سوال کا سامنا ہوتا ہے کہ کیا واقعی مردوں اور عورتوں کے رویوں کا تعین ان کے دماغ سے ہوتا ہے، تو میں ایک طرف کھڑا ہوتا ہوں اور پروفیسر ایلس رابرٹس اس بحث کی دوسری طرف۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جسم کی طرح ہمارے دماغ کی تشکیل میں بھی ان ہارمونز یا کیمیائی مادوں کا اثر ہوتا ہے جن سے ہمارا واسطہ ماں کے پیٹ میں پڑتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ اگر آپ میرے نقطۂ نظر سے اتفاق کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بخوبی سمجھ آ جاتی ہے کہ کئی کاموں میں مرد کیوں اچھے ہوتے ہیں اور کئی کام خواتین کیوں بہتر کرتی ہیں۔ مثلاً مرد وہ کام بہتر کرتے ہیں جن کا تعلق مشینوں وغیرہ سے ہوتا ہے جبکہ خواتین اپنے ہمدردانہ دماغ کی وجہ سے دوسروں کو سمجھنے میں بہتر ہوتی ہیں۔اگرچہ ہماری تربیت بھی ہمارے دماغوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے لیکن میرا خیال ہے میرا نظریہ زیادہ غلط نہیں کہ مردوں اور خواتین کے دماغ مختلف ہوتے ہیں۔
دوسری جانب ایلس کا خیال ہے کہ یہ فرضی باتیں ہیں اور یہ کہنا کہ دماغ نر یا مادہ ہوتا ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم تجربات کیسے کرتے ہیں۔
ایلس کو خدشہ ہے کہ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ مردوں کا دماغ تکنیکی معاملات میں زیادہ چلتا ہے تو اس سے سائنس پڑھنے میں لڑکیوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔
ایک محقق جس نے میرے خیالات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے، ان کا نام پروفیسر بیرن کوہن ہے اور وہ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروفیسر بیرن کوہن کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر دماغ ’دو قسموں‘ کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ’ہمدردانہ‘ ہوتے ہیں۔ ہمدردانہ دماغ یہ جاننے میں اچھے ہوتے ہیں کہ دوسرا شخص کیا سوچ رہا ہے یا کیا محسوس کر رہا ہے۔
دوسری قسم کے دماغ ’انتظامی‘ ہوتے ہیں۔ اس قسم کے دماغوں کی دلچسپی یہ ہوتی ہے کہ اپنے ارد گرد کے سسٹم یا نظام کو حصوں میں توڑ کر اسے سمجھا جائے اور اس کا تجزیہ کیا جائے۔ اس قسم کی دماغوں کو آپ کسی قدر غیر دلچسپ یا ایک ہی دھن میں لگے دماغ کہہ سکتے ہیں۔
ہم سب لوگ دراصل ان دو قسم کے دماغوں کا مجموعہ ہوتے ہیں، لیکن ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کے دماغ یا تو زیادہ ہمدردانہ ہوتے ہیں یا زیادہ انتظامی۔ زیادہ تر مرد انتظامی قطب کے قریب ہوتے ہیں جبکہ زیادہ تر خواتین ہمدردانہ قطب کے قریب، تاہم بے شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دماغ ان قطبین کے درمیان ہوتے ہیں۔
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دماغ کے نر یا مادہ ہونے کا تعلق سراسر ہماری تربیت سے تو نہیں؟
پروفیسر بیرن کوہن کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے بقول چونکہ ماں کے پیٹ میں ہمیں مختلف قسم کے ہارمونز سے پالا پڑتا ہے، اس وجہ سے ہمارے رویے بھی نر یا مادہ ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں پرفیسر کوہن کے جو نتائج سب سے زیادہ حیرت انگیز ہیں، ان کی بنیاد ان کی وہ طویل مدتی تحقیق ہے جس میں وہ کئی بچوں پر ان کی پیدائش سے پہلے سے تحقیق کر رہے ہیں۔
اس تحقیق میں پروفیسر کوہن نے کئی بچوں کی ماؤں کے رحم سے کیمیائی مادے کے نمونے حاصل کیے جب یہ خواتین 16 ہفتوں کی حاملہ تھیں۔ پروفیسر کوہن کی ٹیم نے اس کیمیائی مادے کے معائنے میں اس بات کا تعین کیا کہ اس مائع میں ٹیسٹوسٹرون نامی اینزائم کتنی مقدار میں تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پوفیسر کوہن نے مجھے بتایا کہ ’پیدائش سے پہلے رحم میں بچے کے ارد گرد موجود پانی میں ٹیسٹوسٹرون کی مقدار جس قدر زیادہ ہوتی ہے، بچہ معاشرتی لحاظ سے اتنی ہی زیادہ دیر میں سیکھتا ہے۔ مثلاً ایسا بچہ اپنی پہلی سالگرہ تک دوسروں لوگوں سے آنکھیں کم ملاتا ہے۔‘
اس کے علاوہ زیادہ ٹیسٹوسٹرون میں پلنے والے بچے نئے الفاظ سیکھنے میں دیر لگاتے ہیں اور پرائمری سکول میں بھی دوسرے بچوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔
پرفیسر کوہن کا کہنا تھا کہ زیادہ ٹیسٹوسٹرون میں پلنے کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ بچے میں اپنے ارد گرد کی چیزوں کی سمجھ زیادہ ہوتی ہے۔ ’ٹیسٹوسٹرون کی زیادہ مقدار میں پلنے والے بچے کسی چیز کے ڈایزائن کی خفیہ یا غیر واضح ساخت کو زیادہ جلدی سمجھ لیتے ہیں۔‘
نر اور مادہ دماغوں میں فرق کی ایک دلیل اُس تحقیق سے بھی دی جاتی ہے جو امریکہ کی یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے سائنسدانوں نے کی ہے۔
اس تحقیق میں ماہرین نے آٹھ سے 22 سال کے درمیان کے 949 مردوں اور خواتین کے دماغوں کو سکین کیا اور مردانہ اور زنانہ دماغوں میں عجیب و غریب فرق دیکھے۔
اس تحقیق سے منسلک ماہر پروفیسر رُوبن گر کے مطابق مردانہ دماغوں میں ہمیں دماغ کے اگلے اور پچھلے حصوں کے درمیان زیادہ رابط دکھائی دیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ مرد ’جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اس کے بارے میں جو رد عمل ظاہر کرتے ہیں، ان دونوں میں زیادہ رابطہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نر دماغ جو دیکھتا ہے اس پر فوراً ردعمل ظاہر کر دیتا ہے۔‘
دوسری جانب عورتوں کے دماغوں کے دائیں اور بائیں حصوں میں زیادہ تاریں اور زیادہ رابطہ دکھائی دیا۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
اسی سلسلے کی ایک دوسری تحقیق میں ڈاکٹر رگینی ورمن کا کہنا تھا کہ ’یہ حقیقت کہ مادہ دماغ کے مختلف حصے آپس میں رابطہ کر سکتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کر سکتے ہیں اور آپ کا دماغ وہ کام اچھے طریقے سے کر سکتا ہے جن کا تعلق جذبات سے ہوتا ہے۔‘
لیکن ایلس اِن تنائج سے اتفاق نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات سچ بھی مان لی جائے کہ مردوں اور خواتین کے دماغوں میں بچھی تاریں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے کہ نر اور مادہ دماغ پیدائشی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
انسانی دماغ دراصل ایک نہایت ہی نرم مادے پر مشتمل ہوتا ہے جسے آسانی سے پچکایا جا سکتا ہے، خاص طور پر لڑکپن میں دماغ کی ساخت کو آسانی سے پچکایا یا موڑا جا سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لڑکیوں اور لڑکوں میں جو دماغی فرق دکھائی دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آپ لڑکوں اور لڑکیوں سے مختلف توقعات رکھتے ہیں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے دماغوں پر معاشرتی دباؤ کے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔
انسانی دماغ پر جاری تحقیق میں بہت سی عجیب و غریب باتیں سامنے آ رہی ہیں اور آپ ان تحقیقات کے نتائج کو اپنے اپنے نقطۂ نظر کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، تاہم جو چیز دیکھ کر میں اور ایلس بہت حیران ہوئے، وہ دراصل وہ تحقیق ہے جس میں دیکھا گیا ہے کہ مر اور خواتین درد کی کیفیت پر مختلف ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کو دیرینہ جسمانی دردوں کا سامنا زیادہ رہتا ہے، لیکن مردوں کے مقابلے میں خواتین درد کا علاج کم کرواتی ہیں۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مردوں پر درد کی کچھ دواؤں کا اثر خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، مثلاً مردوں میں پیراسیٹامول جیسی دوائیں زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہیں جبکہ خواتین میں ’اوپیوڈ‘ برادری کی ادویات زیادہ موثر ثابت ہوتی ہیں۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف مونٹریال کے پروفیسر موگل مگِل کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد اور خواتین درد کی کیفیت کو ایک دوسرے سے مختلف انداز میں لیتے ہیں اور درد کے جواب میں ان کے دماغوں کا ردعمل مخلتف ہوتا ہے۔پروفیسر موگل مگِل کی تجویز ہے کہ ہمیں چاہیے کہ مستقبل میں ادوایات بناتے وقت ہم اس فرق کو مد نظر رکھیں۔
اب تک ادویات پر جو تحقیق ہوتی رہی ہے اس میں زیادہ تر مادہ جانوروں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس لیے پروفیسر موگل مِگل کہتے ہیں کہ آئندہ ہمیں مادہ جانوروں پر بھی تحقیق کرنی چاہیے، تاکہ ہم مردوں اور خواتین کے لیے مخصوص ادویات بنا سکیں۔
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آئندہ درد کی دواؤں میں بھی ہمیں لڑکیوں کے لیے گلابی اور لڑکوں کے لیے نیلے رنگ کی گولیاں دیکھنے کو ملیں گی۔







