ایمازون کا جعلی تبصرہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کی سائبر شاپنگ کمپنی ایمازون نے اس کی ویب سائٹ پر کتابوں کے جعلی تبصرے پوسٹ کرنے والے ایک ہزار سے زائد افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں آن لائن شاپنگ کمپنی ایمازون نے مقدمہ درج کروایا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ غلط، گمراہ کرنے والے اور غیر مصدقہ تبصروں سے ان کی کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ تبصرے بھچنے والوں نے اپنی مصنوعات کی مانگ بڑھانے کے لیے پیسے دے کر پوسٹ کروائے تھے۔
اس سے قبل بھی ایمازون نے کئی ویب سائٹس پر اپریل میں جعلی تبصرے شائع کروانے پر ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔
ایمازون کا کہنا ہے کہ اس نے 1,114 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور انھیں ’جان ڈوز‘ کا نام دیا گیا ہے کیوں کہ کمپنی ابھی ان کے اصل نام نہیں جانتی ہے۔ یہ افراد کمپنی کے مطابق ویب سائٹ ’fever.com کے ذریعے جعلی تبصرے کی سہولت صرف پانچ ڈالرز کے عوض فراہم کرتے ہیں اور فائیو سٹار تبصروں کا وعدہ کرتے ہیں۔
جمعے کو ایمازون کی جانب سے درج کروائی جانے والی شکایت میں ان کا کہنا ہے کہ ’یہ تعداد میں کم ہیں لیکن یہ تبصرے صارفین اور بڑے پیمانے پر ایمازون پر اپنی مصنوعات فروخت کرنے اور بنانے والوں کے بھروسے کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں اور اس سے ایمازون کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایمازون کے مطابق انھوں نے اس معاملے کی تحقیق کی جس کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ جعلی تبصرے بھچنے والے پکڑے جانے کے ڈر سے مختلف اور انوکھے آئی پی ایڈریس کا استعمال کرتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کا مقصد ’فیور‘ کو نشانہ بنانہ نہیں ہے۔
دوسری جانب فیور کا کہنا ہے کہ وہ ایمازون کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔







