کینسر پر تحقیق کے لیے برطانوی تنظیم کی 100 ملین پاؤنڈ کی پیشکش

توقع ہے کہ اگلی دو دہائیوں تک دنیا بھرمیں سرطان کے نئے مریضوں کی تعداد سات فیصد اضافہ ہوجائے گا

،تصویر کا ذریعہSPL

،تصویر کا کیپشنتوقع ہے کہ اگلی دو دہائیوں تک دنیا بھرمیں سرطان کے نئے مریضوں کی تعداد سات فیصد اضافہ ہوجائے گا

برطانیہ میں سرطان کے لیے کام کرنے والی ایک فلاحی تنظیم کینسر ریسرچ یو کے نے بین الاقوامی سائنس دانوں کو سرطان سے نمٹنے کے نئے طریقوں پر تحقیق کے لیے 100 ملین پاؤنڈ کی پیشکش کی ہے۔

کینسر ریرسرچ یوکے نے سات نئے چیلنجز کو سامنے ر کھا ہے جن کے بارے میں اس کا کہناہے کہ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب سرطان پر کی جانے والی تحقیق میں اب تک نہیں ملا ہے ۔

پہلی گرانٹ کا اعلان اگلی خزاں میں کیا جائے گا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2012 میں سرطان کے 14 ملین نئے مریض سامنے آئے جبکہ 2۔8 ملین اس بیماری کے سبب موت کے منہ میں چلے گئے۔

توقع ہے کہ اگلی دو دہائیوں تک دنیا بھرمیں سرطان کے نئے مریضوں کی تعداد سات فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ ان مریضوں میں 60 فیصد سے ذیادہ کا تعلق افریقہ، ایشیا، اور وسطی اور جنوبی امریکہ سے ہوگا۔

سرطان کی ایک بڑی وجہ سگرٹ نوشی ہے اور دنیا بھر میں سرطان سے مرنے والے افراد کا پانچواں حصہ اسی وجہ سے اس مرض کا شکار ہوتا ہے۔

گرینڈ چیلنج بورڈ کے چیئرمین اور امریکہ کے نیشنل کینسر انسٹیٹیو ٹ کے سابق دائرکٹر رک کلاسنر کا کہنا ہے کہ ' کینسر پر اس پیمنانے کی تحقیق کبھی نہیں کی گئی۔ یہ تحقیق ایک بڑی اور جرات مندانہ کوشش ہے اور میں سفر کا حصہ بننے پر بہت خوش ہوں۔'

پہلے مرحلے میں پانچ سال کے عرصے کے لیے 20 ملین پاونڈ کا ایوارڈ دیا جائے گا۔

کینسر ریسرچ یوکے کا کہنا ہے کہ اس کا منصوبہ ہے کہ اگلے پانچ سالوں تک کم از کم ایسے پانچ مزید گرینڈ چیلنج ایوارڈ دئے جائیں۔ ' تاکہ سرطان کی تحقیق کے مختلف شعبوں میں نئے خیالات پیدا کئے جاسکیں۔'

گرینڈ چیلنج پینل میں سرطان کے مریضوں کومشورہ دینے کا کام کرنے والی مارگریٹ گرے سون کا کہنا ہے کہ 'میں اپنی چھہ قریبی دوستوں سمیت چھاتی کے سرطان کا شکار ہوئی اور اگلے پانچ سالوں میں ان باقی تمام کی موت واقع ہوگئی۔'

' اس لیے مجھے اس بات کی بہت فکر ہے کہ مستقبل میں سرطان کے مریضوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور مجھے لگتا ہے کہ گرینڈ چیلنج کے ذریعے کینسر ریسرچ یوکے اس کا کوئی راستہ تلاش کر لے گا۔'