’ورچوئل مددگاروں‘ سے ایک ملاقات

امیلیا چیتن ڈیوب اور ان کی سائنس دانوں کی ٹیم کی 17 سالہ محنت کا نچوڑ ہے

،تصویر کا ذریعہIPsoft

،تصویر کا کیپشنامیلیا چیتن ڈیوب اور ان کی سائنس دانوں کی ٹیم کی 17 سالہ محنت کا نچوڑ ہے
    • مصنف, جین ویکفیلڈ
    • عہدہ, نامہ نگار برائے ٹیکنالوج، بی بی سی نیوز

اگر آپ کے خیال میں کسی تقریب میں گھوم پھر کر لوگوں سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کرنا مشکل کام ہے تو کسی مشینی ساتھی سے بات کر کے دیکھیں۔

میں حال ہی میں نیویارک گیا تاکہ آئی پی سوفٹ کی ملکیتی ’ورچوئل مددگار‘ امیلیا اور آئی بی ایم کے ادارکی پلیٹ فارم ’واٹسن‘ سے ملاقات کر سکوں۔

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آپ نہیں جانتے کہ آپ ان سے کیا سوال پوچھ سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ یہ مشینیں ابھی عام بات چیت کے لیے تیار نہیں اور صرف اسی ڈیٹا کے بارے میں بات کر سکتی ہیں جو ان میں موجود ہیں۔

امیلیا ذہانت اور فعالیت کا مجسم ثبوت ہے اور ان کا آن سکرین اوتار ایک پرعزم خاتون کا احساس فراہم کرتا ہے۔

میں نے مختصر بات چیت سے آغاز کیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کیسی ہیں؟ مگر اس سوال کا جواب ان کے پاس نہ تھا۔

میرا اگلا سوال تھا، آپ کہاں رہتی ہیں؟ جواب ملا، ’آپ کے سامنے۔‘

اس صورت حال میں میں نے ایک نیا طریقہ اپنایا اور پوچھ لیا کہ وہ کیا بات کر سکتی ہے؟

اس پر امیلیا نے بتا دیا کہ آگ کی نشاندہی کرنے والےالارم کی تنصیب سے مکان کی خریداری کے لیے بینک سے قرض لینے جیسے وسیع تر موضوعات پر ان سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔

اس وقت بہت سی صنعتیں امیلیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ جہاں وہ جاپان میں ایک بڑی کمپنی کو میک اپ کے سامان کے بارے میں مشورے دیتی ہیں وہیں نیویارک میں سرمایہ کاری کے نجی ادارے میں وہ مالیاتی مشیر ہیں۔

امیلیا چیتن ڈیوب اور ان کی سائنس دانوں کی ٹیم کی 17 سالہ محنت کا نچوڑ ہے۔

پروفیسر ڈیوب نے اپنی اس تخلیق کے بارے میں اس وقت سوچنا شروع کیا جب وہ نیویارک یونیورسٹی میں ریاضی کے استاد تھے۔

17 برس بعد ان کا خیال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا مصنوعی ذہانت 21 ویں صدی کا سب سے بڑا رجحان بنے گی۔

انٹرنیٹ پر بھی صارفین کے لیے کئی ورچوئل مددگار موجود ہیں جن میں سے ایک فرنیچر کی دکان آئکیا کی اینا ہے جسے کمپنی کی ویب سائٹ پر آنے والے صارفین کی مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

تاہم اگر آپ اینا سے کمپنی کی مصنوعات کے علاوہ کوئی سوال کریں تو اس کا جواب اس کے پاس نہیں ہوتا۔

پروفیسر ڈیوب نے بی بی سی کو بتایا کہ امیلیا اس سے مختلف ہے کیونکہ اسے یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے کہ انسانی ذہن کس طریقے سے معلومات کا تجزیہ کرتا ہے۔

اگر امیلیا کو کوئی سوال سمجھ میں نہیں آتا تو یہ تسلیم کرنے میں اسے کوئی تامل نہیں ہوتا اور وہ سوال کرنے والے کو انسانی مددگار سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے اور ان کی بات چیت سن کر سوال کا جواب خود بھی معلوم کرتی ہے تاکہ اگلی مرتبہ اسے مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پروفیسر ڈیوب کے مطابق جب امیلیا کو ایک میڈیا کمپنی میں ڈیجیٹل سروس ڈیسک انجینیئر کے طور پر استعمال کیا گیا تو پہلے ماہ وہ صرف 32 فیصد سوالات کا تسلی بخش جواب دے سکی لیکن تیسرے ماہ تک یہ شرح بڑھ کر 60 فیصد تک پہنچ گئی۔

چیتن ڈیوب اپنی اس تخلیق کے بارے میں بہت بلند عزائم رکھتے ہیں اور ان کا ہدف ہے کہ آئندہ دس برس میں روبوٹکس کے میدان میں بہتری اور سافٹ ویئر سے چلنے والے دماغوں کے لیے زیادہ حقیقی جسم کی تیاری کے بعد ایک چلتی پھرتی اور باتیں کرتی ورچوئل مددگار کی تیاری ممکن بنائی جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ اسی دہائی میں ہم راہداری میں چلتے ہوئے یہ فرق کرنے میں ناکام رہیں گے کہ ہمارے پاس سے گزرنے والا فرد انسان تھا یا کہ اینڈروئڈ۔‘

تاہم میں کچھ روبوٹس سے ملا ہوں اور وہ کئی مقامات پر ناکام رہے ہیں اس لیے میں یقین نہیں کر سکتا کہ ہم مصنوعی ذہانت کے حامل ایک چلتے پھرتے، باتیں کرتے ورچوئل اسسٹنٹ کے لیے تیار ہیں۔

امیلیا کی کارکردگی کا تجزیہ کرنا میرے لیے مشکل تھا کیونکہ جو موضوعات اس کی دسترس میں تھے، میں ان کے بارے میں جاننا نہیں چاہتا تھا تاہم اس میں انسانوں جیسی بات چیت کرنے کی صلاحیت ضرور دکھائی دی۔

آئی بی ایم کے خیال میں مستقبل میں اس کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک واٹسن کے اس نئے ورژن پر ہے جسے وہ ادارکی پلیٹ فارم قرار دیتا ہے
،تصویر کا کیپشنآئی بی ایم کے خیال میں مستقبل میں اس کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک واٹسن کے اس نئے ورژن پر ہے جسے وہ ادارکی پلیٹ فارم قرار دیتا ہے

آئی بی ایم کا واٹسن

مصنوعی ذہانت کی حامل اشیا سے رابطے کے سلسلے میں میرا دوسرا واسطہ آئی بی ایم کے ادارکی پلیٹ فارم ’واٹسن‘ سے پڑا۔

اس کا نام کمپنی کے پہلے چیف ایگزیکیٹو ٹامس جے واٹسن کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ امیلیا سے بہت مختلف چیز ہے۔

جیسے کہ پروفیسر چیتن ڈیوب کہتے ہیں کہ ’امیلیا وہ کام کر سکتی ہے جو انسان کر سکتے ہیں جبکہ واٹسن وہ کرتا ہے جو انسانوں کے بس سے باہر ہے۔‘

مجھے یہ جان کر کچھ حیرت ہوئی کہ واٹسن کے کئی ورژن موجود ہیں۔

سب سے پہلے میری ملاقات ’پرانے‘ واٹسن سے کروائی گئی۔ سرور باکسز کے اس مکعب نے 2011 میں ذہنی آزمائش کا ایک پروگرام جیتا تھا اور اب یہ نیویارک کے مضافات میں آئی بی ایم کی واٹسن تجربہ گاہ میں موجود ہے۔

نیا اور حجم میں کم واٹسن اب مضافاتی تجربہ گاہ سے آئی بی ایم کے اس واٹسن سینٹر منتقل کیا گیا ہے جس کا افتتاح حال ہی میں ہوا ہے۔

یہ منتقلی وقت کی ضرورت تھی کیونکہ آئی بی ایم کئی صنعتوں میں واٹسن کو ایک کاروباری حلیف کے طور پر متعارف کروانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

کمپنی کے خیال میں مستقبل میں اس کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک واٹسن کے اس نئے ورژن پر ہے جسے وہ ادارکی پلیٹ فارم قرار دیتی ہے۔

آئی بی ایم میں شعبۂ تحقیق کے سربراہ گرو بناور کا کہنا ہے کہ ’ہم واٹسن کو ایک ادراکی کمپیوٹر نظام اس لیے کہتے ہیں کہ ہمارا بنیادی خیال ہے کہ اس قسم کے نظام ہی انسانی فہم و ادراک کا ساتھ دیں گے۔ یہ ایسے کام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جو انسانوں کے لیے مشکل ہیں۔‘

آئی بی ایم کئی صنعتوں میں واٹسن کو ایک کاروباری حلیف کے طور پر متعارف کروانے میں دلچسپی رکھتا ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنآئی بی ایم کئی صنعتوں میں واٹسن کو ایک کاروباری حلیف کے طور پر متعارف کروانے میں دلچسپی رکھتا ہے

آئی بی ایم کا یہ پلیٹ فارم اس وقت بھی مقبول ہے۔ درجن بھر سے زیادہ ہسپتالوں میں کینسر کے علاج کے ماہر اسے استعمال کر رہے ہیں اور یہ بہت زیادہ طبی ڈیٹا کا جائزہ لے کر مریضوں کے لیے انفرادی سطح پر علاج تجویز کرتا ہے۔

کینیا میں اسے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے طریقوں کی تلاش کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور حال ہی میں اسے جلد کے کینسر کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کے لیے کام پر لگایا گیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ مالیاتی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی وینٹیج اسے سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

چیف ایگزیکٹیو گریگ وولف کا کہنا ہے کہ ’پہلے پہل میرا خیال تھا کہ ہم ایسی مشین بنائیں گے جو ہمیں بتائے گی کہ کیا خریدو اور کیا بیچو لیکن یہ ایسا نہیں ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میں ان چیزوں کی نشاندہی کرتا ہوں جن کی مجھے تلاش ہوتی ہے اور کمپیوٹر انھیں میرے لیے تلاش کرتا ہے۔ وہ مجھے ایسی شکل میں ڈیٹا دیتا ہے جسے سمجھنا میرے لیے آسان ہے۔ میں فیصلہ کرتا ہوں اور کمپیوٹر محنت۔‘

جب میں واٹسن سے ملا تو اس میں ٹیڈ کانفرنس میں کی جانے والی دو ہزار تقاریر ڈالی جا رہی تھیں اور واٹسن کا کام اس ڈیٹا کا جائزہ لے کر صارف کو اس کی متعلقہ معلومات کی فراہمی ہے۔

میرا پہلا سوال تھا ’خوش رہنے کی کلید کیا ہے؟‘ لیکن مجھے کوئی جواب نہ ملا۔

مجھے کہا گیا کہ اپنے سوال کو بہتر بنائیں اور کوشش کریں کہ وہ کسی سے متعلق ہو۔

میں نے نیا سوال کیا، ’خوشی اور پیسے کا کیا تعلق ہے؟‘

جواب میں مجھے کچھ تقاریر کے ٹکڑے فراہم کیے گئے جن میں کسی میں بھی میرے سوال کا مکمل جواب موجود نہیں تھا۔

میرے خیال میں ’دنیا کے سب سے بڑے دماغ‘ سے میرا یہ مکالمہ کچھ مایوس کن تھا۔

امیلیا اور واٹسن دونوں فی الحال سیکھنے کے دور سے گزر رہے ہیں۔ وہ فی الوقت مخصوص سوالات کے جواب ہی دے سکتے ہیں اور عام بات چیت ابھی بہت دور کی بات لگتی ہے۔

میں نیویارک میں مصنوعی ذہانت کے حامل جن کمپیوٹروں سے ملی وہ واقعی اس شعبے میں حاصل کی گئی کامیابیوں کی دلیل ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہمیں آگے کہاں جانا ہے۔