100 نوری سال کی دوری پر سیارہ دریافت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ماہرینِ فلکیات کے مطابق 100 نوری سال کی دوری پر مشتری کا طفلی سیارہ دریافت ہوا ہے۔
فلکیاتی معیار کے مطابق دریافت ہونے والی نئی دنیا 51 ایریدانی بی، نو مولود ہے اور اس کی عمر محض 20 ملین سال ہے۔
یہ اجنبی دنیا ہمارے اپنے نظام شمسی کی غیرمعمولی ہیئت اور اس کی پیدائش کے عمل کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
جیمنائی پلینٹ امیجر (جی پی آئی، خلا کی ہائی ریزولیشن تصاویر لینے والا آلہ)، نے اسے دریافت کیا ہے۔ اس آلے کا کام قریبی ستاروں کے نظام میں روشن اور چمکتے کمسن اور نو عمر سیاروں کو تلاش کرنا ہے۔
نئی دنیا پہ میتھین کے ٹھوس اثرات موجود ہونے کے جتنے شواہد پائے گئے ہیں اس سے پہلے کسی اور اجنبی دنیا پر نہیں پائے گئے۔
ہمارے نظام شمسی سے باہر جتنے بھی مشتری جیسی خاصیت کے حامل سیارے پائے گئے ہیں ان پر میتھین بہت معمولی مقدار میں پائی گئی تھی۔
ماہرینِ فلکیات نے جی پی آئی کے سپیکٹرومیٹر آلے کی مدد سے نئے سیارے پر پانی کی موجودگی کا بھی پتہ چلایا ہے۔
حاصل ہونے والے شواہد سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی میں موجود سیاروں سے مشابہت رکھتا ہے اور دیوہیکل فلکیاتی اجسام کی پیدائش کے عمل کو سمجھنے میں اضافی معلومات مہیا کرسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نودریافت سیارہ مشتری سے کمیت میں دُگنا ہے۔ اِس پہلے جتنے بھی دیوہیکل گیس والے سیارے دریافت ہوئے ہیں وہ کمیت میں کہیں بڑے تھے اور مشتری سے کمیت کے حوالے سے پانچ سے 13 گُنا زیادہ تھے۔







