نایاب سفید گینڈے کی جمہوریہ چیک میں موت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دنیا میں بچ جانے والے آخری پانچ نایاب سفید گینڈوں میں سے ایک نابیر نامی مادہ جمہوریہ چیک کے ایک چڑیا گھر میں مرگئی ہے۔
اس 31 سالہ اس گینڈے کی موت پیر کی شب ’دیور کرالوو‘ نامی چڑیا گھر میں ہوئی۔
اس کی موت کے بعد اب دنیا میں صرف چار سفید گینڈے رہ گئے ہیں۔
ان میں سے ایک امریکی چڑیا گھر میں رکھا گیا ہے جبکہ بقیہ تین کینیا کے ایک سفاری پارک میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ شکار اور سکڑتی ہوئیں آماجگاہوں کے باعث گزشتہ کئی برسوں سے اس گینڈے کی نسل کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔
شمالی سفید گینڈے کی دیکھ بھال کرنے والے چڑیا گھر کے ملازم جیری ہربی کا کہنا ہے کہ اس کی موت جسم میں فاسد مادے بھر جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔
نابیر اسی چڑیا گھر میں پیدا ہوئی تھی اور اُسے سفید گینڈے کی افزائش نسل کی آخری امید کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔
لیکن اس کے تولیدی نظام میں شروع سے ہی مسائل پیدا ہوگئے تھے اور یہ واضح تھا کے وہ قدرتی طور پر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کا خیال تھا کہ آئی وی ایف یعنی مصنوعی تولید کے ذریعے نابیر بچے پیدا کر سکے گی اور اس کی زندگی کے دوران ایک ایسا تجربہ بھی کیا گیا تھا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔
سنہ 2009 میں چار سفید گینڈوں کو کینیا اس امید کے ساتھ منتقل کیا گیا تھا کہ قدرتی ماحول افزائشِ نسل میں مدد گار ثابت ہو گا لیکن یہ حربہ بھی کارآمد ثابت نہ ہوا۔







