غلطیوں کی نشاندہی مگر کیسے؟

،تصویر کا ذریعہbbc
ہر میدان میں باس سے غلطی ہو سکتی ہے جبکہ جونیئر سٹاف کو ہمیشہ اپنے باس کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے میں پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے لیکن بعض شعبے ایسے ہیں جن میں ایسا نہ کرنے سے جان جانے کا خطرہ رہتا ہے۔
ہوا بازی اور طب دو ایسے شعبے ہیں جہاں اس طرح کی ترتیب جونیئرز کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے کہ وہ اپنے باس کے خلاف کوئی بات کہیں۔
ہوابازی کے شعبے میں خطرناک غلطیوں کو کم کرنے کے ایک طریقے کے طور پر عہدے کی اعلیٰ اور ادنی لحاظ سے ترتیب کو توڑنے کے لیے نفسیاتی تکنیک کے استعمال کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ہر سطح کے اہلکار کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
طب میں بھی اس طریقے کو اپنایا جا رہا ہے۔
ہوابازی کے شعبے میں اسے ’مناسب‘ کلچر کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے جہاں حادثات کو روکنے کے لیے غلطیوں کی نشاندہی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
یہ طریقہ 27 مارچ سنہ 1977 میں ٹینیرائف کے حادثے کے بعد اپنایا گیا جس میں دو طیاروں کے زمین پر ہی ٹکرا جانے سے 538 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
دونوں طیاروں میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
طیارے کے کپتان نے معاون پائلٹ کی بات کو رد کر دیا تھا کہ انھیں ابھی پرواز کے لیے کلیئرینس نہیں ملی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینيئر اہلکار کے سامنے نہ بول سکنا ایسی چیز ہے جو واضح طور پر غلطیوں کی نشاندہی کی راہ میں حائل ہوتا ہے خواہ وہ زندگی اور موت کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔
یہ بات اس ٹیم پر بھی صادق نظر آتی ہے جہاں لوگ بہت نزدیک رہ کر اور مل جل کر کام کرتے ہیں جیسے طیارے کے عملے اور ناگہانی صورت حال میں انھیں سوال کرنے کے بجائے خاموش رہنے کے لیے کہا جاتا ہے۔
اب طب کے میدان میں سرجری کرنے والی ٹیم ہوابازی کے شعبے میں نفسیاتی تحقیق سے سبق حاصل کرنا چاہتی ہے جہاں طیاروں کے ٹکرانے کے حادثے شاذ و نادر کے زمرے میں آ گئے ہیں۔
میٹ لینڈلی جمبو جیٹ چلاتے ہیں اور حفاظتی اقدامات کے لیے ڈاکٹروں کو تربیت دیتے ہیں۔ وہ ایک واقعہ بتاتے ہیں جس میں ایک سرجن ایک بچے کے ہاتھ کا آپریشن کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
تبھی ایک جونیئر ڈاکٹر نے دیکھا کہ وہ لوگ غلط ہاتھ کا آپریشن کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے خدشات کو مسترد کر دیا گیا لیکن انھوں نے پھر کوشش کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا: ’یہ بہت غیر متوقع تھا کیونکہ بہت سے لوگ ایک بار مسترد کیے جانے کے بعد چپ ہو جاتے ہیں اور انھوں درشت لہجے میں چپ رہنے کے لیے کہہ دیا گیا۔
’ٹیم نے صرف دس منٹ میں محسوس کیا کہ انھوں نے غلط ہاتھ کا آپریشن کردیا تھا۔ جونیئر ڈاکٹر نے اس کے بعد خود کو مجرم محسوس کرنا شروع کردیا کیونکہ انھیں اپنی بات کہنے کا ہنر نہیں معلوم تھا کہ ان کی بات سنی جاتی۔‘
لینڈلی کا کہنا ہے کہ ’انھیں اپنی بات کہنے میں پراعتماد ہونا چاہیے اور مخصوص الفاظ کا استعمال کر نا چاہیے تھا۔
’مجھے خدشہ ہے، میں مطمئین نہیں ہوں، یہ غیر محفظ ہے یا ہمیں رک جانا چاہیے۔ اور میرے خیال سے آپ کسی بھی عہدے کی ترتیب میں کسی بھی سطح پر ہوں ان چار الفاظ کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔‘
ان کے مطابق بہت سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ حفاظتی تربیتی کورس اب کیوں کر رہے ہیں جبکہ وہ گذشتہ 25 سال سے ڈاکٹر ہیں اور انھیں ’یہ کورس پہلے دن کرنا چاہیے تھا۔‘
انگلینڈ میں سنہ 2012 اور 2013 کے دوران 300 ایسے واقعات ہوئے جو روکے جا سکتے تھے۔







