سیٹلائیٹ کا سب سے بڑا جھرمٹ

،تصویر کا ذریعہ
یورپ کی بڑی خلائی کمپنی ایئربس سیٹلائٹ سب سے بڑا نیٹ ورک بنانے جا رہی ہے۔
ایئربس برطانوی کمپنی ون ویب کے لیے 900 خلائی جہاز تیار کرے گي جو کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرنے کی خواہشمند ہے۔
ابتدا میں 600 سیٹلائٹ لانچ کیے جائیں گے جبکہ باقی کو ضرورت کے لیے رکھا جائے گا۔
اس معاہدے کا اعلان پیرس میں ہونے والے ایئر شو کے دوران کیا گيا۔
کہا جاتا ہے کہ کئی ارب ڈالر کی مالیت کی برطانوی کمپنی ون ویب کی یہ کہکشاں کسی بھی کمرشل نیٹ ورک کو پیچھے چھوڑ دے گی۔
اس پروجیکٹ میں ایئر بس ’صنعتی پارٹنر‘ ہوگی۔ اس کام میں اسے سخت چیلنج کا سامنا ہوگا کیونکہ ایئر بس نے دنیا کے بعض انتہائی مخصوص اور سب سے زیادہ خرچیلے ٹیلی موصلات کے متعلق کام سے اپنا نام قائم کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس کے برعکس ون ویب کے لیے یہ انتہائی کم قیمت پر بہت زیادہ کام کررہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہر سیٹلائٹ تقریبا ڈیڑھ سو کلوگرام وزنی ہوگا اور کمپنی ون ویب ہرایک کی تیاری پانچ لاکھ امریکی ڈالر سے کم میں چاہتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایئربس کا کہنا ہے کہ وہ پہلا 10 خلائی طیارہ اپنے ٹولوزے کے کارخانے پر بنائے گا اور پھر وہ اس منصوبے کو امریکہ کے ایک مخصوص پلانٹ میں منتقل کر دے گا۔
خیال رہے کہ ذیلی سیارچوں کی اس کہکشاں کو مدار میں چھوڑنے کے لیے بہت سے راکٹ درکار ہوں گے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کے لیے ریچرڈ برینسن کی کمپنی ورجن گروپ کی خدمات لی جائیں گي۔

،تصویر کا ذریعہ
اس کے ساتھ ہی سر رچرڈ ون ویب کے بورڈ میں بیٹھ کر سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کا نظام تیار کریں گے۔
ایئربس کے فرانسوا آک نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ ہماری خلائی کہانی میں ایک شاندار نیا باب ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’ون ویب کے ساتھ مل کر بہت سے چھوٹے سیٹیلائٹ تیار کرنے میں ہر دن کچھ نیا بنانے کی تحریک ملے گی اور اس سے خلا میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے بہت زیادہ تعداد میں چیزوں کے بنانے سے اخراجات میں بہت زیادہ کمی ہوگی۔
’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پروگرام بہت چیلینجنگ ہے لیکن ہم اس کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہمارے پاس وسائل اور مہارت ہیں۔‘







