سمندر کی پوشیدہ مخلوقات کی پر اسرار دنیا

اس طرح کے یک خلوی اجسام سمندر میں تقریبا تمام جگہوں پر پائے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہTara oceans

،تصویر کا کیپشناس طرح کے یک خلوی اجسام سمندر میں تقریبا تمام جگہوں پر پائے جاتے ہیں

سائنس نامی معروف جریدے میں سمندر کی سب سے چھوٹی مخلوقات یا نامیاتی اجسام کی دنیا کے بارے میں مختلف مضامین کے ذریعے روشنی ڈالی گئی ہے۔

ایک بین الاقوامی ٹیم گذشتہ تین سالوں سے ان کے متعلق مطالعہ کر رہی ہے اور انھوں نے اس دوران پانی پر تیرتے ہوئے جن حیاتی جمگھٹوں (پلینکٹون) کو اکٹھا کیا ہے ان کے نمونوں کا مطالعہ کر رہی ہے۔

اس ٹیم نے ابھی تک بیکٹیریا کی 35 ہزار اقسام، وائرس کی پانچ ہزار نئی اقسام اور یک خلوی پودوں (پروٹوزوا) کی تقریبا ڈیڑھ لاکھ اقسام تلاش کی ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ اس میں سے زیادہ تر کے بارے میں سائنس کی دنیا کو پہلے سے علم نہیں تھا۔

یہ مخلوق جنوبی بحرالکاہل میں دریافت کی گئی

،تصویر کا ذریعہv

،تصویر کا کیپشنیہ مخلوق جنوبی بحرالکاہل میں دریافت کی گئی

نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ (سي این آر ایس) کے پیرس میں ڈاکٹر کرس بولر نے بی بی سی کو بتایا: ’پلینکٹون نامیاتی اجسام کے بارے میں فی الحال ابھی تک ہمارے پاس سب سے زیادہ معلومات ہیں جن میں وائرس، بیکٹیریا اور پروٹوزوا شامل ہیں اور بالاخیر دنیا بھر میں موجود ان اجسام کا اب ہمارے پاس کیٹلاگ ہے۔‘

پلینكٹون نامیاتی اجسام یا مخلوق بھلے ہی بہت چھوٹی ہوتی ہیں اور خوردبین سے نظر آتی ہوں لیکن سمندری زندگی کا تقریباً 90 فیصد حصہ ان پر ہی مبنی ہے۔

ان اجسام یا مخلوق میں وائرس، بیکٹیریا، یک خلوی پودے اور پروٹوزوا مخلوق شامل ہیں۔

اس جیسے بہت سے نامیاتی اجسام سائنس کے لیے نئے ہیں

،تصویر کا ذریعہTara oceans

،تصویر کا کیپشناس جیسے بہت سے نامیاتی اجسام سائنس کے لیے نئے ہیں

پلینكٹون فوڈ چین (غذائی نظام) کی بنیاد تسلیم کیے جاتے ہیں اور فوٹو سینتھیسس (ضیائی تالیف) کے ذریعےہمارے سانس لینے کے لیے یہ آکسیجن کا نصف حصہ فراہم کرتے ہیں۔

بہر حال سمند کے ایکو سسٹم کے نہ نظر آنے والے ان اجسام کے بارے میں ابھی تک ہماری معلومات بہت کم تھی۔

فرانسیسی فیشن ڈیزائنر ایگنس بی نے ’تارا مہم‘ کے ذریعہ پلینكٹون کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مہم چلائی تھی۔

اس میں سنہ 2009 سے 2013 کے درمیان کئی ممالک کے سائنسدانوں نے حصہ لیا۔ سائنسدانوں کی اس ٹیم نے سمندر میں تقریبا 30 ہزار کلومیٹر کا سفر کیا اور 35 ہزار نمونے اکٹھے کیے۔

بہت سے اجسام درجہ حرات کے بارے میں بہت حساس ہیں

،تصویر کا ذریعہv

،تصویر کا کیپشنبہت سے اجسام درجہ حرات کے بارے میں بہت حساس ہیں

یہ نمونے سمندر کی اوپری سطح سے لے کر ایک ہزار میٹر نیچے تک لیے گئے جبکہ اس تلاش کی مہم میں تقریباً ایک کروڑ یورو خرچ آیا ہے۔

ابھی تک سائنسدانوں نے 35 ہزار نمونوں میں سے 579 نمونوں کا تجزیہ کیا ہے اور پانچ سائنسی مضامین میں ان کے نتائج کو شائع کیا ہے۔

ڈاکٹر بولر کا کہنا ہے کہ اس تحقیق نے سمندری جاندار کے بارے میں ہمارے فہم ادراک میں کایا پلٹ کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’جہاں تک وائرس کا سوال ہے تو پانچ ہزار اقسام میں سے ابھی تک ہمیں صرف 39 کے بارے میں علم تھا۔

’جبکہ یک خلوی اجسام کے بارے میں ہمار خیا ل ہے کہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ ہیں۔‘

ابھی تک ٹیم نے 35 ہزار نمونوں میں سے 579 نمونوں کا تجزیہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہv

،تصویر کا کیپشنابھی تک ٹیم نے 35 ہزار نمونوں میں سے 579 نمونوں کا تجزیہ کیا ہے

’اور پلینکٹون کی تقریبا گیارہ ہزار باضابطہ اقسام کی وضاحت ہم نے کر رکھی ہے جبکہ ہمارے پاس اس سے دس گنا زیادہ ہونے کے شواہد ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں بہت سی نئی جین ہیں۔

وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہمارے علم میں اب چار کروڑ جین ہیں اور ان میں سے80 فی صد سائنس کے لیے نئی ہیں۔‘

اس تحقیق میں یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ پلینکٹون کی یہ برادریاں کس طرح منظم ہیں۔