افغان پوليس افسر کے بھارتی ہاتھ

عبدالرحيم نے کہا کہ آپريشن کے بعد انھوں نے اپنے پرانے دستخط بھى کيے
،تصویر کا کیپشنعبدالرحيم نے کہا کہ آپريشن کے بعد انھوں نے اپنے پرانے دستخط بھى کيے
    • مصنف, عنایت الحق یاسینی
    • عہدہ, بی بی سی، پشتو

بھارت میں ڈاکٹروں نے ایک افغان اہلکار کے دونوں ہاتھ ٹرانسپلانٹ کرنے کا کامیاب آپریشن کیا ہے۔

افغان پوليس اہکار افسر عبد الرحيم کے دونوں ہاتھ 2012 میں ايک بارودى سرنگ کے دھماکے میں کٹ گئے تھے۔

عبدالرحيم صوبہ قندہار کے رہائشی ہیں اور انھوں نے 2001 میں پوليس میں شموليت اختيار کى تھى۔

عبدالرحيم کا بھارت کے ایک ہسپتال میں 15 گھنٹے کا کامياب آپريشن ہوا۔ آپریشن کے بعد بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب وہ ہوش میں آئے تو اپنے نئے ہاتھوں کو ديکھ کر خوشى بيان نہیں کر سکتے تھے: ’مجھے يقين نہیں آ رہا تھا، اس سے پہلے میں ايک زندہ لاش کى طرح تھا مگر نئے ہاتھوں نے مجھے نئی زندگى دے دى ہے۔‘

عبدالرحيم کو ايک بھارتی شہری کے ہاتھ لگائے گئے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

عبدالرحيم کا کہنا تھا کہ آپريشن کے بعد انھوں نے ہاتھ عطیہ کرنے والے شخص کے خاندان سے ملاقات کر کے ان کا شکريہ ادا کيا اور میں سارى زندگي ان کا احسان مند رہوں گا۔

آپريشن کى فيس اور دوسرے اخراجات کے بارے میں انھوں نے کہا: ’افغان حکومت کی جانب سے کوئى خاص مالي مدد نہیں ملی، تمام اخراجات انھوں نے خود، اپنے دوستوں اور اپنے علاقے کے لوگو ں کی مدد سے جمع کیے۔‘

بي بي سي سے پشتو سے بات کرتے ہوئے ان کی خوشي بجا طور پر ديکھنے کے قابل تھی۔ انھوں نے بتايا کے آپريشن کے بعد مسلسل مبارکباد وصول کر رہے ہیں۔

عبدالرحيم نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پوری طرح صحت ياب ہونے کے بعد پھر سے پوليس سروس میں شامل ہو جائیں۔

عبدالرحيم نے کہا کہ آپريشن کے بعد انھوں نے اپنے پرانے دستخط بھى کيے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے چار بیٹے بھی خاندان کے دوسرے افراد کی طرح اس کامياب آپریشن پر بہت خوش ہیں۔