ہم کیوں سوتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہThinkstock
- مصنف, پلاب گھوش
- عہدہ, سائنس نامہ نگار، بی بی سی نیوز
نیند ہماری زندگی کا نارمل بلکہ ضروری حصہ ہے۔ لیکن اگر آپ اس کے متعلق سوچیں تو آپ کو یہ ایک عجیب چیز لگے گی۔
ہر دن کے اختتام پر ہم بے ہوش سے ہو جاتے ہیں اور ہماری حسیں جاتی رہتی ہیں۔ نیند نے ہمارے آباؤ اجداد کو غیر محفوظ بنا دیا تھا اور جانوروں کے حملوں کا شکار ہو جاتے تھے۔ سو اس عمل کے ممکنہ خطرات، جو کہ دودھ پلانے والے اور کئی دیگر جانوروں کو لاحق ہیں، کسی قسم کے ارتقائی فوائد بھی لاتے ہوں گے۔
اس حوالے سے تحقیق ذرا سست رفتار سے شروع ہوئی۔ لیکن حال ہی میں تحقیق کے بڑے دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے تحقیق کاروں کو اس سوال کے جواب کہ ہمیں نیند کیوں آتی ہے اور جب ہم سوتے ہیں تو کیا ہوتا ہے کے متعلق نئی چیزیں معلوم ہوئی ہیں۔
میں کیوں سوتا ہوں؟
سائنسدانوں کو حتمی طور پر اس کے متعلق نہیں پتہ۔ لیکن سائنسدانوں کا عام خیال یہ ہے کہ اس سے ہمارے جسم اور خصوصاً دماغ کو آرام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ حال ہی میں تحقیق کاروں کو حال ہی میں اس کے تفصیلی عمل کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔
دن کے وقت نئے تجربات کی وجہ سے دماغ کے خلیے دماغ کے دوسرے خلیوں سے تعلق بناتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ نیند میں ضروری تعلق مضبوط ہوتے ہیں جبکہ غیر ضروری تراش دیے جاتے ہیں۔ چوہوں کے ساتھ تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ جن چوہوں کو سونے نہیں دیا جاتا ان میں تعلق مضبوط بنانے اور تراشنے کا زیادہ تر عمل نیند میں ہوتا ہے۔
اور نیند دماغ کے لیے فضلے کو صاف کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔
نیو یارک میں یونیورسٹی آف راچیسٹر میڈیکل سینٹر کے ایک گروہ نے جس کی سربراہی پروفیسر میئکن نیدرگارڈ کر رہی تھیں چوہوں میں انتہائی باریک مائع سے بھری نالیوں کے جال کا پتہ چلایا ہے جن کے ذریعے دماغ سے کیمیائی فضلہ صاف کر کے نکالا جاتا ہے۔ پروفیسر نیدرگارڈ نے بی بی سی نیوز کو 2013 میں بتایا تھا جب ان کی تحقیق شائع کی گئی تھی کہ یہ زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب دماغ بند ہوتا ہے۔
’آپ اس کو بالکل گھر میں ایک پارٹی کی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ آپ یا تو مہمانوں کی دیکھ بھال کریں یا پھر گھر صاف کریں، آپ دونوں ایک ساتھ نہیں کر سکتے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کیا ہوتا ہے جب میری نیند پوری نہیں ہوتی؟
ایسا لگتا ہے کہ نیند کی کمی ہمارے جسم کے خلیوں کے کام کرنے کے طریقے کو بدل دیتی ہے۔
گلفرڈ کی سرے یونیورسٹی میں تحقیق کاروں نے معلوم کیا ہے کہ وہ جینز جن کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے خلیوں کے عمل میں تیزی لاتی ہیں۔ تحقیق میں شامل ڈاکٹر میلکم وان شانز کے مطابق یہ جینز نیند میں کمی پر ردِ عمل ظاہر کر رہی ہیں جیسے کہ جسم بہت دباؤ میں ہے۔
ان کا خیال ہے کہ ماضی بعید میں دباؤ کے دنوں میں ہمارے آباؤ اجداد کے جسم ان کو اشتعال پیدا کرنے والی جینز کے ذریعے چوٹ کے لیے تیار کر دیتے تھے جو جانوروں اور دیگر انسانی دشمنوں کے حملوں کے حوالے سے ایک کشن یا تکیے کا کام کرتا تھا۔
انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’یہ جسم کو زخم کے بارے میں خبردار کر دیتا ہے لیکن کوئی زخم نہیں آتا۔‘
’اس سے نیند میں کمی اور دل کی بیماری یا فالج جیسے اس کے صحت کے حوالے سے منفی نتائج کے درمیان تعلق کو آسانی سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔‘
جب میں تھکا ہوا ہوتا ہوں تو اس وقت سوچنا کیوں مشکل ہو جاتا ہے؟
’آدھی نیند‘ شاید اس کے لیے درست لفظ ہو کہ جب ہم تھکے ہوتے ہیں تو ہمارے دماغ میں کیا چل رہا ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق انسانی دماغ کا کچھ حصہ اس وقت بھی سو سکتا ہے جب اسے مکمل طور پر نیند نہیں دی جاتی۔ وہیل مچھلی اور ڈولفن پر تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب وہ سو رہی ہوتی ہیں اس وقت بھی تیرنے اور پانی کی سطح پر آ کر سانس لینے کے لیے وہ اپنا دماغ استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔
انسانی مریضوں پر ایک تحقیق سے یہ سامنے آیا ہے کہ ہمارے دماغ میں بھی کچھ اس طرح کی چیزیں چل رہی ہوتی ہیں۔ جب نیند پوری نہیں ہوتی تو دماغ کے کچھ حصے کے خلیے جاگنے کے باوجود بے حرکت ہو جاتے ہیں۔
خواب دیکھنے کا کیا کردار ہے؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنے کی ماہرِ نفسیات کارل یُنگ اور سگمنڈ فرائڈ کوشش کرتے رہے لیکن انھیں خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ حالیہ وقتوں میں جاپان کے شہر کیوٹو میں واقع اے ٹی آر کمپیوٹیشنل نیورو سائنس لیبارٹریز کی ایک ٹیم نے ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش خواب پڑھنے والی مشین بنانے کے آغاز سے کی ہے۔
انھوں نے رضاکاروں کو کہا کہ وہ ایم آر آئی سکینر میں نیند لیں اور پھر ان کے دماغ کے نمونے کو ریکارڈ کیا۔ اس کے بعد ان کو نیند سے اٹھایا گیا اور پوچھا گیا کہ وہ کس چیز کا خواب دیکھ رہے تھے۔
اس کے بعد ٹیم نے خواب کے مواد کی 20 مختلف کیٹیگریز بنائیں جیسا کہ مکان، گلی، مرد، عورت، عمارت اور کمپیوٹر سکرین۔ اس کے بعد تحقیق کاروں نے دماغ کے اس حصے کی کارروائی کا موازنہ کیا جو بصری معلومات دیتا ہے۔ ان کی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی جب انھیں معلوم ہوا کہ اس میں ایک تعلق ہے۔
یہ ایک بہت ہی سادہ آلہ ہے لیکن یہ آلہ یہ جاننے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے کہ ہمارے خوابوں میں کیا ہوتا ہے اور اس سے تحقیق کاروں کو بھی یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ہم کیوں خواب دیکھتے ہیں۔







