کائنات کے پراسرار ’تاریک مادے‘ کا پہلا نقشہ

،تصویر کا ذریعہDARK ENERGY SURVEY
سائنس دانوں نے کائنات کے بڑے اسرار میں سے ایک ’تاریک مادے‘ (ڈارک میٹر) کی تلاش کے پہلے نتائج پیش کیے ہیں۔
تاریک مادہ کائنات میں موجود اس مادے کو کہا جاتا ہے کہ جس کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ کائنات میں نظر آنے والے مادے یعنی کہکشاؤں، ستاروں اور کہکشاؤں کے درمیان موجود خلائی دھول پر کششِ ثقل کے ذریعے اثر ڈالتا ہے، اور اس نے ایک عرصے سے سائنس دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔
بین الاقوامی تعاون سے جاری ایک پروگرام ’ڈارک انرجی سروے‘ یعنی تاریک توانائی کی جانچ کرنے والی ٹیم نے جنوبی امریکی ساحل پر طویل ترین کوہستانی سلسلے اینڈیز میں ایک انتہائی طاقتور دوربین کا استعمال کر کے اس گریزاں مادے کا نقشہ تیار کیا ہے۔
اس میں تاریک مادے کے بڑے بڑے حلقے نظر آئے ہیں جو کہکشاؤں میں جڑے ہوئے ہیں اور انھیں ان کے درمیان موجود خلا علیحدہ کرتے ہیں۔
ابھی تک سائنس دان دور دراز کی کہکشاؤں سے آنے والی روشنیوں میں خلل کو ناپ کر اس کے وجود کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔
اس تحقیق کے ذریعے سائنس دان تاریک توانائی کا تعین کرنا چاہتے ہیں جو کہ ایک ایسی قوت ہے جو ہمہ وقت تیز تر ہوتی ہوئی رفتار سے کائنات کو پھیلا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہUniversidad de Durham
ییل یونیورسٹی میں فلکیاتی طبیعیات کی پروفیسر پریا نٹراجن اس تحقیق میں شامل نہیں ہیں، تاہم انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تاریک مادے کے بارے میں بتایا:
’تاریک مادے کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کسی بھی ویو لنتھ پر مرتعش نہیں ہوتا، اس لیے ہم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ ہم اس کا صرف بالواسطہ طور پر کشش ثقل کے ذریعے مشاہدہ کرتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں جانتے کیا آیا تاریک مادہ کششِ ثقل فراہم کرتا ہے جس سے ستارے اور کہکشائیں بنتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا: ’اس لیے ہم کائنات میں کمیت اور روشنی کے رشتے کو نہیں جانتے اور یہ ابھی تک ایک پہیلی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کس قدر تعلق رکھتے ہیں۔







