’صرف جنسی آزادی ہی آزادی نہیں‘

،تصویر کا ذریعہHOTURE
بالی وُڈ اداکارہ دیپکا پاڈوکون نے میگزین ’ووگ انڈیا‘ کے ساتھ ’مائی چوائس‘ یا میرا انتخاب نامی جو ویڈیو شوٹ کی ہے اسے جہاں بیشتر لوگ پسند کررہے ہیں وہاں بہت سے لوگ اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔
تنقید کرنے والوں کی فہرست میں اب اداکارہ سوناکشی سنہا کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔
سونکاشی سنہا کا کہنا ہے کہ خواتین کی آزادی صرف جسمانی رشتے بنانے کی آزادی تک محدود نہیں ہے۔
دیپیکا پاڈوکون کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کے ذریعے انہوں نے خواتین کی آزادی سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا ہے لیکن سوناکشی سنہا کا کہنا ہے کہ ’ابھی تک میں نے ویڈیو تو نہیں دیکھی لیکن مجھے معلوم ہے کہ یہ ویڈیو خواتین کو بااختیار بنانے کی مہم کے تحت بنائی گئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ بااختیار ان خواتین کو بنانے کی ضرورت ہے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔ ہم جیسے متوسط طبقے کی خواتین کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘
سونکاشی سنہا کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھا آغاز ہے لیکن ’خواتین کی آزادی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کس طرح کا لباس پہنیں، یا کس کے ساتھ جسمانی رشتے قائم کریں، میرے لیے خواتین کی آزادی کا مطلب ہے ان کو روزگار کے مواقع فراہم کرانا اور ہمت دلانا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ویڈیو کا معاشرے کے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنی والی خواتین تک پہنچنا ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’مائی چوائس‘ نامی ویڈیو میں دیپیکا پاڈوکون کے علاوہ ادکارہ نمرت کور اور ہدایت کار زویہ اختر جیسی فلمی شخصیات نے بھی حصہ لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویڈیو میں دیپکا پاڈوکون کہتی ہیں کہ وہ ایک عورت ہیں اور انھیں خود سے منسلک ہر فیصلہ کرنے کا مکمل حق ہے، خواہ وہ کسی قسم کا کپڑا پہننے کے حوالے سے ہو، شادی کرنے یا نہ کرنے، یا پھر شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنے سے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔
وہ کہتی ہیں: ’جن کا یہ خیال ہے کہ سوتی یا ریشم کے کپڑوں سے میری روح کو ڈھک سکتے ہیں، ان کا خیال یہ ہے کہ وہ کائنات کی وسعت کو قید کر سکتے ہیں یا سورج کو اپنی مٹھی میں بند کر سکتے ہیں۔‘
عورتوں کو بااختیار بنانے کے مقصد کے لیے بنائے جانے والی اس ویڈیو میں دیپکا کہتی ہیں کہ ’میں کسی مرد سے محبت کروں، کسی خاتون سے، یا پھر دونوں سے، یہ میرا فیصلہ ہونا چاہیے۔۔۔ میرے فیصلے میری پہچان ہیں، یہی مجھے مخصوص بناتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ بھارت میں سنہ 2012 کے دلی گینگ ریپ معاملے کے بعد خواتین کے حقوق اور تحفظ سے متعلق مہم تیز ہوئی ہے جس میں سماج کے ہر طبقے نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور بالی وُڈ بھی اس مہم میں پیش پیش رہا ہے۔








