سمارٹ ڈیوائس: کیا پرائیویسی کا سودا ناگزیر ہے؟

،تصویر کا ذریعہAP
ٹیکنالوجی کے اعلیٰ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس کا استعمال کرنے والے لوگوں کو کسی حد تک پرائیویسی کا سودا کرنا لازمی ہو گا۔
انجینیرنگ اور ٹیکنالوجی انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ویل سٹورٹ کہتے ہیں کہ پرائیویسی میں کمی کرنا سمارٹ فونز کی اندرونی خاصیت ہے۔
یہ بیان انھوں نے سیمسنگ کے ایک اعلان کے بعد دیا جس میں الیکٹرانک کمپنی نے صارفین کو ہوشیار کیا ہے کہ وہ آواز سے چلنے والے ٹی وی یا ’وائس اکٹویٹڈ‘ ٹی وی کے سامنےذاتی باتیں کرنے سے پرہیز کریں۔
سیمسنگ کے نئی نسل کے ’سمارٹ‘ ٹی وی سیٹ دیکھنے والے کی آواز کو پہچاننے اور ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے احکام لے سکتے ہیں۔
تاہم سیم سنگ نے واضح کیا ہے کہ یہ سیٹ مسلسل ریکارڈ نہیں کرتے بلکہ ’ وائس اکٹویشن‘ کی سہولت صرف تب استعمال میں آتی ہے جب صارفین بٹن دبا کہ اس کے ریموٹ میں نصب مائیکروفون سے مخاطب ہوتے ہیں۔
سمارٹ ٹی وی پھر اس ریکارڈنگ کو انٹرنیٹ کے ذریعے وضاحت کے لیے بھیجتا ہے تاکہ یہ تعین کر سکے کہ حکم کیا ہے۔
سیم سنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ نہ ان معلومات کو اپنے پاس رکھتا ہے اور نہ ہی اسے بیچتا ہے مگر اس یقین دہانی کے باوجود پرائیویسی کے موضوع پر ایک بحث چھڑگئی ہے۔
پروفیسر سٹیورٹ کہتے ہیں کہ’ وائس اکٹویٹشن‘ کے نئے دور میں پرائیوسی کو بہت خطرات ہیں۔ انھوں نے کہا کے سیم سنگ کے سمارٹ ٹی وی سیٹ ابھی ابتدائی ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں لیکن ’جیسے جیسے ہمارے ٹی وی سیٹ اور عقلمند ہوتے جائیں گے ویسے ویسے مسائل اور پیدا ہوں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ کیونکہ زیادہ تر لوگ اپنے فائدے کے لیے کچھ پرائیویسی کھونے کے لیے تیار ہیں ان کو یہ احساس نہیں ہے کہ پرائیویسی کا سودا ایک دلدل ہے جو آہستہ آہستہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔







