سوشل میڈیا پر سال 2014 کے اہم شگوفے

صدر اوباما کی سیلفی جس نے جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات پر ایک نظر کھڑا کر دیا

،تصویر کا ذریعہgetty

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما کی سیلفی جس نے جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات پر ایک نظر کھڑا کر دیا

سال 2014 ایک ایسا سال تھا جو سنیپ چیٹنگ، ٹیگنگ، ٹرینڈز کا سال تھا۔

فس بُک 10 برس کی ہو گئی، ٹوئٹر کا آٹھواں شروع ہوا اور انسٹاگرام کا چوتھا انھیں پر کئی سیاستدانوں، ستاروں اور کھلاڑیوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

اب وہ دور گیا کہ آپ نے ٹویٹ کی یا سٹیٹس شیئر کیا اور جلدی سے ڈیلیٹ کیا اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ اب لوگ پڑھتے بعد میں ہیں اور سکرین شاٹ پہلے لیتے ہیں۔

اب ایسی باتوں پر کچھ لوگوں کو تو سوشل میڈیا پر روکا جانا چاہیے۔

بیفی بوتھم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اگر آپ یہ سب پہلی بار پڑھ رہے ہیں تو شکر ادا کیجیے۔

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ایئن بوتھم نے بظاہر ایک برہنہ تصویر اس کیپشن کے ساتھ ٹویٹ کی ’کیا سوچ رہی ہو میری جان‘ اپنے اس اکاؤنٹ کے ساتھ ٹویٹ کی جس کا ہینڈل تھا beefybotham@

58 سالہ کرکٹر کو فٹبالر روبی سیویج نے توجہ دلائی کہ ’لگتا ہے دوست آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔‘

اس پر کرکٹر اور بعد میں کمنٹیٹر نے جواب دیا ’بڑی مزاحیہ بات کی ہے‘ مگر بعد میں انہیں اس کے روشن پہلو کی چکا چوند نے جگایا تو انہوں نے ٹویٹ کی کہ ’میں ہیکر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے 20 منٹ میں مجھے 500 ہٹس دلا دیے۔‘

انہوں نے اس سب کو اپنے 320000 فالوورز کو ری ٹویٹ کیا اور اس پر لوگ کہاں انہیں بخشنے والے تھے۔ خود ہی دیکھ لیں نیچے

’آپ کی لینتھ اس سے تو بہتر ہی تھی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’آپ کی لینتھ اس سے تو بہتر ہی تھی‘

بے شک وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے سوشل میڈیا کے خطرات سے خبردار کیا تھا کہ ’بہت سارے ٹوٹس بناتے ہیں۔۔۔۔۔‘ مگر زیادہ دیر نہیں لگی انہیں خود اسی پھسلن سے نیچے گرنے میں شاید اسی لیے سال کی سب سے زیادہ میمڈ (ایسی تصویر جنھیں کسی پر طنز کرنے یا کسی کا مذاق اڑانے کے لیے بنایا جائے) پوسٹس میں انھیں کی ایک ٹویٹ تھی۔

ٹوئٹر پر سیاستدانوں کے یہ حالات ہیں کہ ڈیوڈ کیمرون جو مرضی ٹویٹس کریں انھیں بے رحمی سے ٹرول کیا جاتا ہے مگر اس بار صورتحال مختلف تھی کیونکہ کچھ مشہور چہرے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔

واقعہ یوں ہے کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی نیچے دی گئی اس تصویر کے بعد۔۔۔۔۔

اس ٹویٹ میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے صدر اوباما سے گفتگو کے بارے میں لکھا جس میں یوکراین کا تنازع زیربحث آیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس ٹویٹ میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے صدر اوباما سے گفتگو کے بارے میں لکھا جس میں یوکراین کا تنازع زیربحث آیا

کامیڈین روب ڈینلی نے اس کے بعد یہ پوسٹ کیا

’لوگو میں بھی لائن پر ہوں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’لوگو میں بھی لائن پر ہوں‘

اور پھر سر پیٹرک سٹیورٹ جنھیں سٹار ٹریک فلم سے شہرت ملی نے یہ پوسٹ کر دی۔

’تاخیر پر معذرت میں بھی اب لائن پر ہوں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’تاخیر پر معذرت میں بھی اب لائن پر ہوں‘

بات وزیراعظم کیمرون تک نہیں بلکہ کئی سیاستدان سوشل میڈیا پر اپنے آپ جا پھنسے یا پھر ان کی بظاہر عام سی باتوں کو لوگوں نے آڑے ہاتھوں لیا۔

برے مذاق

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

فلم امریکن پائی کے اداکار جیسن بگز کو ملائشین پرواز MH17 کے گرائے جانے کے بعد کیا گیا ایک مذاق کافی مہنگا پڑا بلکہ ایک طوفان ہی کھڑا ہو گیا جس حادثے میں 298 افراد اپنی جانوں سے گئے۔

اس خوفناک حادثے کے کئی گھنٹے کے بعد انہوں نے ٹویٹ کی کہ ’کیا کوئی میرے ملائشین ایئر لائنز کے اکثر سفر کرنے کے نتیجے میں ملنے والے بونس ائیر مائلز حاصل کرنا چاہتا ہے؟‘

سوشل میڈیا پر اٹھنے والے طوفان کے بعد جیسن نے اپنی ٹویٹ کا دفاع کیا کہ کوئی ٹوئٹر کے صارفین کو انھیں فالو کرنے پر مجبور نہیں کر رہا مگر بعد میں انھوں نے اس پر معذرت کی اور ٹویٹس کی سیریز کے ذریعے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی۔

’ٹھیک ہے میں معذرت چاہتا ہوں لوگوں کو میری ٹویٹس سے تکلیف پہنچی میں نے ساری ٹویٹس ڈیلیٹ کر دی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’ٹھیک ہے میں معذرت چاہتا ہوں لوگوں کو میری ٹویٹس سے تکلیف پہنچی میں نے ساری ٹویٹس ڈیلیٹ کر دی ہیں‘
’یہ یقناً بہت بڑا حادثہ ہے اور میں سب کے ساتھ غم اور غصے میں شریک ہوں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’یہ یقناً بہت بڑا حادثہ ہے اور میں سب کے ساتھ غم اور غصے میں شریک ہوں‘
’میں مسافروں کے رشتہ داروں کو محبت کا پیغام بھجوانا چاہتا ہوں۔‘ ان ٹویٹس پر مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا ہے مجھے خود ہی اندازہ ہوا ہے کہ میری بات کچھ حد سے تجاوز کر رہی تھی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’میں مسافروں کے رشتہ داروں کو محبت کا پیغام بھجوانا چاہتا ہوں۔‘ ان ٹویٹس پر مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا ہے مجھے خود ہی اندازہ ہوا ہے کہ میری بات کچھ حد سے تجاوز کر رہی تھی‘
’جس کے لیے وقت غیر مناسب تھا اور اس پر میں معذرت چاہتا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’جس کے لیے وقت غیر مناسب تھا اور اس پر میں معذرت چاہتا ہوں‘

چند دن قبل <link type="page"><caption> پاکستان میں ایک نوجوان کو تھانے میں فون کر کے بم دھماکے کی افواہ کے جرم میں 26 سال قید کی سزا سنائی گئی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/12/141227_hoax_caller_sentenced_sq" platform="highweb"/></link> تو اگر آپ ان حساس معاملات کو سنجیدہ نہیں لیتے تو اس ولندیزی لڑکی کی مثال کافی ہے۔

’ہیلو میرا نام ابراہیم ہے اور میرا تعلق افغانستان سے ہے۔ میں القاعدہ کا حصہ ہوں اور یکم جون کو میں ایک بڑی کارروائی کرنے والا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’ہیلو میرا نام ابراہیم ہے اور میرا تعلق افغانستان سے ہے۔ میں القاعدہ کا حصہ ہوں اور یکم جون کو میں ایک بڑی کارروائی کرنے والا ہوں‘

ایک 14 سالہ ولندیزی لڑکی کو یہ شوق کچھ مہنگا پڑ گیا جب انھوں نے امریکن ایئر لائنز کو ایک دھمکی بھری ٹویٹ کی جس میں انھوں نے اپنے آپ کو دہشت گرد بتایا اور القاعدہ کا حصہ بتا کر کچھ کرنے کی دھمکی دی۔

اس پر ہاتھوں ہاتھ فضائی کمپنی نے جواب دیا کہ ’ہم اس نوعیت کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور آپ کا آئی پی ایڈریس ایف بی آئی کو دے رہے ہیں‘۔

لڑکی کو فوری معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہو اور اس نے ٹویٹسں کیں کہ’میں معذرت چاہتی ہوں میں اب خوفزدہ ہوں میں تو مذاق کر رہی تھی میں صرف ایک عام لڑکی ہوں پلیز۔‘

اس کے بعد انھوں نے مزید لکھا کہ ’میں مشہور ہونا چاہتی تھی مگر ڈیمی لویٹو کی طرح نہ کہ اسامہ بن لادن کی طرح۔‘

لڑکی کو ولندیزی شہر روٹرڈیم کی پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد میں رہا کر دیا تھا اور ان کے اکاؤنٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔

اوباما کے ساتھ سیلفی مشیل کے ساتھ نہیں؟

اوباما کی نارویجن وزیراعظم کے ساتھ سیلفی اور اس پر ایک جانب بیٹھیں مشل اوباما جنہیں بعد میں دونوں کے درمیان میں بیھے دکھایا گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناوباما کی نارویجن وزیراعظم کے ساتھ سیلفی اور اس پر ایک جانب بیٹھیں مشل اوباما جنہیں بعد میں دونوں کے درمیان میں بیھے دکھایا گیا

آج کل سیلفی لینے کا رواج بہت ہو گیا ہے ہاں جی وہی تصویر جو آپ خود کی اپنے سمارٹ فون کے لینس کو گھما کر لیتے ہیں۔

مگر اس کا مطب اپنے عام کیمرے کو الٹانا نہیں جس کی کوشش کرتے ہوئے یہ بزرگ خاتون انٹرنیٹ پر امر ہو گئیں آپ نے تو کہیں کبھی ایسی کوشش نہیں کی؟

سیلفی اس طرح بھی لی جا سکتی ہے۔ نہیں؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسیلفی اس طرح بھی لی جا سکتی ہے۔ نہیں؟

آپ نے دیکھا ہو گا کہ آپ کا موبائل خاص طور پر سمارٹ فون آپ سے زیادہ ہوشیار ہوتا جا رہا ہے آپ کچھ لکھتے ہیں اور وہ تابعدار منشی کی طرح آپ کو مشورے دیتا ہے حضور یہ لفظ۔۔۔ نہیں یہ لفظ۔۔۔ ڈیلیٹ۔۔۔۔ ہاں یہ والا لفظ۔۔۔۔جسے تکنیکی زبان میں آٹو کریکٹ کہتے ہیں یا خود بخود درستگی۔

مشہور ماڈل نیومی کیمبل نے ملالہ کو مبارکباد دیتے ہوئے غلطی سے ملیریا لکھ ڈالا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمشہور ماڈل نیومی کیمبل نے ملالہ کو مبارکباد دیتے ہوئے غلطی سے ملیریا لکھ ڈالا۔

بہت بار ایسا ہوتا ہے بلکہ ہو چکا ہے کہ آپ انگریزی میں لکھنا اسامہ چاہتے اور لکھا اوباما جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اسامہ انگریزی کا لفظ نہیں اس لیے اکثر موبائل فونز کی ڈکشنری میں یہ لفظ نہیں ہوتا اور اس کا خمیازہ دوسرے کو بھگتنا پڑتا ہے یا پھر ملالہ انگریزی ڈکشنری کے لیے نیا لفظ ہے تو ملیریا پہلے سے ہے۔

اب نیومی کیمبل نے تو غلطی کر ہی ڈالی انسٹا گرام نے اسے بغیر دیکھی اسی طرح چھاپ دیا۔ اسی لیے کہتے ہیں نقل کے لیے بھی عقل چاہیے ہوتی ہے۔ نہیں؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناب نیومی کیمبل نے تو غلطی کر ہی ڈالی انسٹا گرام نے اسے بغیر دیکھی اسی طرح چھاپ دیا۔ اسی لیے کہتے ہیں نقل کے لیے بھی عقل چاہیے ہوتی ہے۔ نہیں؟