کچھ عرب شریعت کے خلاف کیوں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہEPA
معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عربی میں دھواں دھار بحث چھڑی ہوئی ہے جس میں لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اسلامی قوانین یا شریعت کے نفاذ کی باتیں ترک کر دینا چاہییں۔
زیادہ تر اسلامی ممالک میں مذہبی قوانین پر بحث کرنا ایک نازک مسئلہ ہے، لیکن ٹوئٹر پر ایسا نہیں کیونکہ محض 24 گھنٹوں میں ایک عربی ہیش ٹیگ ’ہم نفاذِ شریعت سے کیوں انکاری ہیں‘ پر پانچ ہزار مرتبہ مختلف لوگ اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس معاملے پر گفگتو زیادہ تر سعودی عرب اور مصر سے کی جا رہی ہے۔ اس بحث کا مرکزی نکتہ یہ سوال ہے کہ آیا عرب ممالک اور جدید عدالتی نظام میں شریعت کے قوانین موزوں ہیں یا نہیں۔
’میں مذہب کے خلاف بالکل نہیں ہوں‘ کے عنوان سے ہیش ٹیگ کا آغاز سوئٹزرلینڈ میں مقیم مصری ڈاکٹر عالیہ غاد نے کیا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عالیہ کا کہنا تھا کہ وہ مذہب کے خلاف نہیں ہیں، تاہم وہ مذہب کو ’ایک سیاسی نظام کے طور پر استعمال‘ کرنے کے خلاف ہیں۔
اسلام پسند اکثر مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلامی ممالک میں قانونی نظام کو تبدیل کر کے ایسے قوانین متعارف کرائے جانے چاہییں جو شرعی اصولوں سے مطابقت رکھتے ہوں، جبکہ ان میں سے زیادہ سخت موقف رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہمیں مجرموں کو انتہائی سخت سزائیں دینی چاہییں۔

،تصویر کا ذریعہ
ڈاکٹر عالیہ کہتی ہیں کہ انھیں فکر ہے کہ مسلمان نوجوان اس شدت پسند سوچ کو اپنا رہے ہیں۔
’دیکھیں یہ چیز اب ہر جگہ پھیل چکی ہے، دولتِ اسلامیہ نہ صرف زمین پر بلکہ لوگوں کے دماغوں میں بھی جا رہی ہے۔‘
اسی ہیش ٹیگ میں ڈاکٹر عالیہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں مجرموں کو شرعی قوانین کے تحت دی جانے والی سزاؤوں کا موازنہ مغربی معاشروں کی سزاؤں سے کیا۔
اب تک بہت سے لوگ اس ہیش ٹیگ کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں اور ہر کسی نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ عربوں اور مسلمانوں کو شریعت کا نفاذ کیوں نہیں کرنا چاہیے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک شخص نے لکھا کہ شریعت کا نفاذ اس لیے نہیں کیا جانا چاہیے کہ ’دنیا میں ایک بھی مثبت مثال نہیں ہے کہ ان قوانین کے نفاذ سے معاشرے میں انصاف یا برابری آئی ہو۔‘
ایک اور شخص نے لکھا کہ شریعت کا نفاذ اس لیے نہیں کیا جانا چاہیے ’کیونکہ دولتِ اسلامیہ، صومالیہ اور افغانستان میں اس کا نفاذ ہوتا ہے اور ہم اس کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔‘
کچھ سعودی لوگوں نے بھی اپنے تجربات لکھے ہیں۔ کیلی فورنیا میں مقیم ایک سعودی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سعودی عرب میں شریعت کے نفاذ کا تجربہ کر لیا ہے، اور ہمیں اس تلخی کا پتہ ہے جو آپ کسی مذہبی طاقت کے نیچے رہتے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔‘ اور ایک سعودی خاتون کا کہنا تھا کہ ’شرعی قوانین کے تحت ہم اصل میں غیرانسانی قوانین میں زندگی گزار رہے ہیں۔ سعودی عرب ان لوگوں کے خون سے سرخ ہے جن کے سر قلم کیےگئے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ
تاہم اپنے جذبات کا اظہار کرنے والے تمام لوگوں نے اتنی شدید تنقید نہیں کی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ مسئلہ مذہبی قوانین کا نہیں بلکہ ان قوانین کی غلط تشریح کا ہے۔
بحرین میں مقیم ایک مصری کے بقول: ’شریعت کے ساتھ کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس کا اطلاق کیسے کرتے ہیں۔‘ ایک اور مصری کا کہنا تھا کہ ’شریعت کی کوئی ایک تشریح نہیں ہے۔ اخوان المسلون کی اپنی تشریح ہے، سلفیوں کی اپنی، دولتِ اسلامیہ کی اپنی، بوکو حرام کی اپنی اور القاعدہ کی اپنی۔‘
کچھ لوگوں کے خیال میں ڈاکٹر عالیہ کا ہیش ٹیگ مسلمانوں کے لیے ایک ناگوار سوال ہے۔ ایک شخص نے ڈاکٹر عالیہ کو ’ایمان سے عاری‘ قرار دیا جبکہ ایک اور شخص کا جواب تھا کہ ’تم شرعی قوانین کے اس لیے خلاف ہو کیونکہ تم ہم جنس پرستی، شراب اور بدکاری چاہتی ہو۔‘
ڈاکٹر عالیہ یو ٹیوب پر ایک مقبول چینل بھی چلاتی ہیں جس پر جنسیت اور صحت کے موضوعات پر بحث کی جاتی ہے۔ کئی لوگوں کی جانب سے سخت جوابات پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کی عادی ہیں کیونکہ وہ جس قسم کے موضوعات چھیڑتی ہیں انھیں ایسے جواب ملتے رہتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قسم کے متنازع موضوعات چھیڑنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی بات کہنے کے حق کی قدر کرتی ہیں کیونکہ ان کے آبائی ملک مصر میں آپ ایسا نہیں کر سکتے۔
’اگر میں مصر میں ہوتی تو اس کی آدھی دلیر بھی نہ ہوتی جتنی میں یہاں ہوں۔‘







