مخصوص حالات میں موٹاپا معذوری ہو سکتا ہے: یورپی عدالت

،تصویر کا ذریعہSPL
یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ مخصوص حالات میں موٹاپے کو قانونی طور پر ایک معذوری قرار دیا جاسکتا ہے۔
یورپی کی عدالتِ انصاف کے پاس ڈنمارک کے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے ایک مرد کا مقدمہ پیش کیا گیا تھا جس کا کہنا تھا کہ اس کے بہت زیادہ موٹا ہونے کی وجہ سے اسے ملازمت سے نکال دیا گیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اگر موٹاپا کام کو موثر طریقے سے کرنے کی راہ میں حائل ہوتا ہو تو اسے معذوری قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ پورے یورپ کے لیے نافذ العمل ہوگا۔
جج نے کہا کہ موٹاپا خود ایک معذوری نہیں لیکن اگر کوئی اس موٹاپے کی وجہ سے ایک طویل عرصے تک نقصان اٹھا رہا ہو تو یہ معذوری سے متعلق قوانین کے تحت آتا ہے۔
یہ مقدمہ 160 کلو وزنی کارسٹین کالٹوف سے متعلق تھا۔ اس نے پندرہ برس تک ملازمت دینے والی مقامی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا جس نے انھیں چار سال قبل نوکری سے نکال دیا تھا۔
انتظامیہ کا موقف تھا کہ بچوں کی تعداد میں کمی کے باعث انھیں کالٹوف کی خدمات کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ لیکن کالٹوف کا کہنا تھا کہ اس کی معطلی کی وجہ اس کا زیادہ وزن تھا۔
اس سال کے آغاز میں انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں کہ وہ اتنے موٹے ہیں کہ بیٹھ کر بچوں کے جوتے کے تسمے بھی بند نہیں کر سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بچوں کے ساتھ اپنے کام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں فرش پر بیٹھ سکتا ہوں اور بچوں کے ساتھ کھیل سکتا ہوں مجھے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں خود کو معذور نہیں سمجھتا۔ میں اسے مناسب نہیں سمجھتا کہ کسی کو صرف موٹا ہونے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا جائے حالانکہ وہ اپنا کام بھی ٹھیک سے کر رہے ہوں۔‘
ڈنمارک کی عدالت نے یورپی عدالتِ انصاف سے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں وضاحت کرے کے موٹاپا معذوری ہے یا نہیں۔
اب ڈنمارک کی عدالت کالٹوف کے وزن کا جائزہ لے گی کہ آیا ان کا معاملہ معذوری کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔
صرف برطانیہ میں ایک چوتھائی افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP







