چکنائی سے بھرپور کھانے صحت کے لیے مفید؟

چکنائی سے بھرپور خوراک آپ کے دل کے لیے تو شاید خطرہ نہ ہو لیکن زیادہ کیلریز بھی صحت کے لیے اچھی نہیں ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنچکنائی سے بھرپور خوراک آپ کے دل کے لیے تو شاید خطرہ نہ ہو لیکن زیادہ کیلریز بھی صحت کے لیے اچھی نہیں ہیں

برسوں تک ہمیں بتایا جاتا رہا ہے کہ چکنائی سے بھرپور کھانےصحت کے لیے مضر ہیں اور ان سے دل کی شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں جس سے دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

لیکن اب ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ چکنائی دار کھانوں کے استعمال سے نہ صرف آپ اپنا وزن گھٹا سکتے ہیں بلکہ یہ آپ کے دل کے لیے بھی مفید ہیں۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے تعاون سے ہونے والی ایک تحقیق نے چکنائی دار کھانوں سے متعلق والے پرانے خیالات کو جڑ سے ہلا دیا ہے۔

مشہور یونیورسٹیوں، اوکسفرڈ، کیمبرج اور ہاروڈ کے سائنس دانوں نے چکنائی کے استعمال اور دل کے بیماریوں میں تعلق ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔

لیکن سائنس دان پانچ لاکھ افراد پر ہونے والی 18 تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد بھی کوئی ایسی حتمی شہادت ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں جو ثابت کرتی ہو کہ چکنائی کا استعمال انسانی دل کے لیےمضر ہے۔

ان سائنس دانوں نے جب ایسے خون کے نمونوں کےنتائج کا جائزہ لیا جس میں دودھ، مکھن جیسی ڈیری مصنوعات سے حاصل ہونے والی چکنائی استعمال کی گئی تھی تو انھیں مارگیرک ایسڈ ملا جس کے استعمال سے دل کی بیماریوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

اس ریسرچ پر لوگوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

صحت کے برطانوی ادارے نیشنل ہیلتھ سروس نے اسے ایک ایسی تفصیلی اور جامع ریسرچ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحقیقاتی رپورٹ مزید تحقیقات کا سبب بنے گی۔

سائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس ریسرچ سے چکنائی کے استعمال کے بارے میں ابہام بڑھےگا
،تصویر کا کیپشنسائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس ریسرچ سے چکنائی کے استعمال کے بارے میں ابہام بڑھےگا

البتہ کچھ ماہرین نے ان مشہور یونیورسٹیوں کے سائنس دانوں کی اس تحقیقاتی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دراصل لوگوں میں ابہام پیدا کرے گی۔

ریسرچ پیپر لکھنے والی سائنس دانوں کی ٹیم کی ایک رکن اور کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی پروفیسر کے ٹی خا کا کہنا ہے کہ اس ریسرچ کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ آپ چکنائی سے بھرے کھانے شروع کر دیں۔ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس ریسرچ سے چکنائی کے استعمال کے بارے میں ابہام بڑھےگا۔

پروفیسر خا کا کہنا ہے اس بات کی اب کافی شہادت موجود ہے کہ بادام، مغز جیسی اشیا ہفتے میں کئی بار کھانے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ البتہ انھوں نے کہا کہ ڈیری مصنوعات سے حاصل ہونے والی چکنائی کے صحت پر مفید اثرات کے بارے میں شواہد بہت زیادہ مضبوط نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دودھ اور مکھن کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر خا کے خیال میں بیف اور مٹن کھانے میں مضائقہ نہیں ہے۔ پروفیسر خا کہتی ہے کہ ایسی گائیں جن کی خوراک گھاس پر مشتمل ہوتی ہے ان کے گوشت میں چکنائی کی مقدار ان گائیوں کے گوشت سے کم ہوتی ہے جنھیں مکئی کھلائی جاتی ہے۔

امریکی گائے کی خوراک میں مکئی کا بڑا حصہ شامل ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے گوشت میں چکنائی کی اتنی مقدار ہوتی ہے جو دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے جبکہ یورپی گائے چراگاہوں میں پلتی ہیں اور ان کے گوشت میں چکنائی کی مقدار کم ہوتی ہے۔

چکنائی کا استعمال شاید اتنا مضرِ صحت نہ ہو جتنا ہم ماضی میں سمجھتے رہے ہیں، لیکن اگر کا استعمال آپ کو موٹا کر دے تو کیا یہ یقیناً صحت کےلیےمضر ہے؟ نہیں ایسا بھی نہیں ہے۔

حال ہی میں سکینڈی نیویائی ہیلتھ کیئر جرنل میں چھپنے والی ایک ریسرچ کے مطابق ایسے لوگ جو چکنائی والی خوراک یعنی دودھ، دہی مکھن اور کریم کے استعمال کرنے سے مکمل پرہیز کرتے ہیں، ان میں موٹاپے کے امکانات ان لوگوں سے زیادہ ہوتے ہیں جو دودھ اور دہی کا استعمال کرتے ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چکنائی والے کھانے آپ کی بھوک کو ختم کر دیتے ہیں جبکہ بغیر چکنائی کے کھانے سے آپ دل نہیں بھرتا اور آپ مزید کھاتے رہتے ہیں جس سے آپ اپنے جسم میں کیلریز کی مقدار بڑھا لیتے ہیں جو موٹاپے کا سبب بنتی ہیں۔

یہ تحقیق جو کہتی ہے کہ چکنائی کا استعمال دل کی صحت کے لیے برا نہیں ہے وہ ہرگز آپ کو یہ لائسنس نہیں دیتی کہ آپ تیل میں تلے ہوئے کھانے شروع کر دیں۔ چکنائی سے بھرپور خوراک آپ کے دل کے لیے تو شاید خطرہ نہ ہو لیکن زیادہ کیلریز کا استعمال یقیناً صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔

اس ریسرچ کے بعد میں نے مکھن، دہی اور بادام اور مغز جیسے خشک میوے کھانا شروع کر دیے ہیں۔