پہلی بار شارک اور منتارے کی تجارت پر قدغن

،تصویر کا ذریعہWWF
شارک اور منتارے مچھلیوں کو ناپید ہونے کے خطرے کے پیش نظر اب ان کی قانونی طور پر تجارت ہو سکے گی۔
شارک کی پانچوں قسم کی نسل کی تجارت پرضابطے نافذ ہوں گے یعنی اب غیر قانونی طور پر پکڑی گئی شارک مچھلیوں کے گوشت یا ان کے فنز (مچھلی کے پروں) کی تجارت پر پابندی ہوگی۔
یہی ضوابط منتا رے مچھلیوں کے لیے بھی منظور کیے گئے ہیں۔
ان ضوابط پر گذشتہ سال تھائی لینڈ میں منعقدہ ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار نسلوں کی تجارت کے کنوینشن (سائٹس) میں ان ضوابط کو منظور کیا گیا تھا۔
حالیہ برسوں میں شارک مچھلیوں کی تعداد زبردست دباؤ کا شکار رہی ہے کیونکہ ان کے فنز کی زبردست مانگ کے پیش نظر ان کے شکار میں اضافہ ہو گیا ہے۔
سائنسی اندازے کے مطابق ہر سال دس کروڑ شارک کو مارا جاتا ہے کیونکہ ان کے فنز کے سوپ ہانگ کانگ اور چین میں بہت مطلوب ہیں۔
واضح رہے کہ اس مچھلی کے تحفظ کی مہم میں لگے رضاکار سنہ 1990 کی دہائی سے ہی غیر قانونی تجارت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہspl
اتوار سے سائٹس نے اوشیانک وائٹ ٹپ، پوربیگلز اور ہتھوڑی کے سر جیسی شکل والی شارک کی تین اقسام کو ضمیمہ دو میں داخل کر دیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی تجارت بغیر پرمٹ یا سند کے نہیں ہوسکے گي۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منتا رے کو ان کے گلے کے گوشت (گل) کے لیے اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ان کا چینی دواؤں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں یہی باتیں کہیں گئی ہیں۔
حد سے زیادہ مچھلیاں پکڑنے سے مچھلیوں کی ان نسلوں کو خطرہ لاحق ہے۔
ان اقدام کو سائٹس کی 40 سالہ تاريخ میں ان نسلوں کو بچانے کے لیے سب سے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سائٹس کے جنرل سیکریٹری جان سکانلن نے کہا: ’شارک اور منتا رے مچھلیوں کی نسلوں کی تجارت پر قوائد و ضوابط ان کی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں اور سمندر کی حیاتیاتی تنوع کو بچانے کے لیے یہی سب سے مناسب طریقہ ہے۔‘







