بندروں میں مختلف دماغ اور ساخت ہوتی ہے: تحقیق

،تصویر کا ذریعہAP
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بندروں کے سماجی درجہ بندی کے حساب سے ان کی دماغی ساخت مختلف ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق ایسے بندر جو اپنے گروپ میں نمایاں یا اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں ان کے دماغ کے بعض حصے بڑے ہوتے ہیں جبکہ نیچلے درجے کے بندروں کے دماغ کے وہ ہی حصے قدرے کمزور ہوتے ہیں۔
مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ پرائی میٹ دماغ جن میں انسانی دماغ بھی شامل ہیں میں انفرادیت پیدا کی جا سکتی ہے۔
ان اختلافات سے شاید یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ ان جانوروں میں پیدائشی طور پر رہنمائی کرنے یا تابع رہنے والے رجحانات ہوں یا یہ کہ ان کا ذہن جانور کے کردار میں ڈھل سکتا ہے یا یہ دونوں باتیں ہو سکتی ہیں۔
نیورو سائنس دانوں کی جانب سے کی جانے والی یہ تحقیق پلوس بیالوجی نامی جریدے میں چھپی ہے جس میں 25 بندروں کے دماغ کا سکین کیا گیا ہے۔
اس تحقیق کے پہلے مصنف ڈاکٹر میری این نونان کا کہنا ہے کہ ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یاد داشت، فیصلہ کرنے اور دماغ میں ہونے والی تبدیلی سے ان کے دماغ میں کیا اثر پڑتا ہے؟
ڈاکٹر نونان کے مطابق جانوروں کی سماجی حیثیت کو جاننے کے فیصلے نے غیر متوقع اور واضح نتیجہ پیدا کیا۔
انھوں نے کہا کہ یہ بہت حیران کن تھا۔ ہمارے تمام بندر مختلف عمر اور مختلف جنس کے تھے تاہم ایف ایم آر آئی کے ذریعے آپ انھیں کنٹرول کر سکتے ہیں اور ہم مسلسل باہر آنے والے ایک ہی نیٹ ورک دیکھ رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان بندروں کو مختلف گروپوں میں رکھا گیا تھا اور ہرگروپ میں کم سے کم پانچ بندر تھے جس کا مقصد سائنس دانوں کو ان کے رویے سے ان کی سماجی حیثیت کا پتہ چلانے کے بعد ان کے دماغ کے مختلف پہلوؤں کا موازنہ کرنا تھا۔
ڈاکٹر نونان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ دونوں سروس پر کامیابی کے لیے آپ کو مخصوص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ مہارت دماغ کے ان چند حصوں پر زیادہ دماغی دباؤ ڈالتی ہیں۔







