آکٹوپس کی طرز پر رنگ بدلنے والا نیا مادہ

،تصویر کا ذریعہ
امریکہ میں سائنس دانوں نے ایک ایسا مادہ تیار کیا ہے جو اپنے ماحول کے اعتبار سے اپنا رنگ بدلتا ہے۔
انھیں آکٹوپس اور کٹل فش کی رنگ بدلنے کی صلاحیت سے اس لچکیلے مادے کو بنانے کی تحریک ملی ہے۔
اس نئے ڈیزائن میں ایک میلی میٹر کے خلیے نما گرڈ ہیں جن میں درجۂ حرارت پر منبی رنگ ہیں اور جو حالات کی مطابقت سے رنگ بدلتے ہیں۔
ابھی یہ صرف سفید اور سیاہ رنگوں میں جواب دے رہے ہیں لیکن موجد ٹیم کو امید ہے کہ ان کے ڈیزائن کے اصول تجارتی اور عسکری کاموں میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ نئی تحقیق ’پی این اے ایس‘ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
امریکہ کی الی نوئے یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اس تحقیقی مقالے کے سینیئر مصنف پروفسر جان روجرز نے کہا کہ یہ نئي شیٹ حیاتیات، کمپیوٹر اور الیکٹریکل انجینیئرنگ کے ماہرین کے تعاون سے وجود میں آئی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’قدرتی دنیا میں آکٹوپس، سکوئڈ اور کیٹل فش جیسے سیفالوپوڈ جانوروں میں رنگ بدلنے کی قابل دید صلاحیتیں ہوتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ
پروفیسر روجرز کی ٹیم یہ تلاش کرنے نکلی کہ ان قدرتی نمونوں سے وہ کیا سیکھ سکتے ہیں اور بالآخر انھوں نے ان کے مطالعےکی بنیاد پر ایک نیا مادہ بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بطور خاص انھوں نے اس سہ سطحی ڈیزائن کی نقل کی جو ان جانوروں کی جلد میں نمایاں تھا۔ اوپری سطح میں رنگ ہیں، درمیانی سطح رنگوں کو متحرک کرتی ہے اور نچلی سطح رنگوں کے اس نمونے کا انتخاب کرتی ہے جسے تبدیل کرنا ہے یا جس کی نقل کرنا ہے۔
آکٹوپس کی جلد کے کام کرنے کے طریقے کے برخلاف نئی شیٹ میں ہر ایک ترکیبی جز اپنا کام مختلف ڈھنگ سے کرتا ہے۔
نئے مادے میں نچلی سطح میں فوٹوسینسر کا گرڈ ہے جو روشنی میں تبدیلی کا پتہ چلاتا ہے اور اوپری سطح پر ’ایکچوئٹر‘ کو اس کی ترسیل کرتا ہے۔
یہ ایکچوئٹر آکٹوپس کے عضلے یا پٹھے کی جگہ ہیں جو سطح پر نظر آنے والے رنگوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
مصنوعی مادے میں سب سے اوپری سطح میں درجۂ حرارت ناپنے کے رنگ لگے ہیں جو 47 سینٹی گریڈ پر سیاہ سے شفاف ہو جاتے ہیں اور درجۂ حرارت کی تبدیلی اس کے نیچے کی سطح پر مجود ایکچوئٹر سے ہوتی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ اپنی نوعیت کا پہلا مکمل نظام ہے اور یہ ایک پتلے کاغذ کے ٹکڑے کی طرح ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ابھی یہ استعمال کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ ابھی یہ صرف اپنے نقطۂ آغاز پر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی اسے مختلف رنگوں کو دکھانے اور ان کو اتارنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔







