شفٹوں میں کام کرنے والوں کو ذیابیطس کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہSPL
ایک بڑے بین الاقوامی سائنسی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ شفٹوں میں کام کرتے ہیں انھیں ذیابیطس دوم لاحق ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
سوا دو لاکھ افراد پر کی جانے والی یہ تحقیق جریدے آکوپیشنل اینڈ انوائرمینٹل میڈیسن میں شائع ہوئی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مرد جو بار بار تبدیل ہونے والی شفٹوں میں کام کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ شفٹوں میں کام کرنے کی وجہ سے جسم کا وقت کا حساب رکھنے والا اندرونی نظام منتشر ہو جاتا ہے، جس سے وزن بڑھتا ہے، ہارمونز کی مقدار میں خلل پڑتا ہے اور نیند متاثر ہوتی ہے۔
یہ تمام اسباب مل کر ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔
برطانوی تنظیم ڈایابیٹس یوکے نے کہا کہ شفٹوں میں کام کرنے والے افراد کو زیادہ صحت مندانہ اور متوازن خوراک کھانی چاہیے۔
ذیابیطس بے حد خطرناک بیماری ہے اور اس سے خون کی نالیوں اور اعصاب کو نقصان پہنچنے کے علاوہ نابینا پن، دل کی بیماریوں، گردوں کی بیماریوں اور فالج جیسے سنگین امراض میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کو دن کے وقت سلانے کے بعد چند ہفتوں کے اندر اندر ذیابیطس دوم کی ابتدائی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔
چین کی ہواژونگ یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ شفٹوں میں کام کرنے والوں میں ذیابیطس دوم کا خطرہ نو فیصد بڑھ جاتا ہے۔ تاہم مردوں میں یہ شرح 35 فیصد ہے۔ وہ لوگ جو کبھی رات اور کبھی دن کی شفٹوں تبدیل کرتے ہیں، ان میں یہ شرح بڑھ کر 42 فیصد ہو جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائنس دانوں کا کہنا ہے: ’اس تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ شفٹوں میں کام کرنے والے مردوں کو ذیابیطس سے بچنے کے لیے عام لوگوں کی نسبت کہیں زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔
’دنیا بھر میں شفٹوں میں کی جانے والی ملازمتوں کی کثرت اور ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے پیشِ نظر ہماری تحقیق کے نتائج ذیابیطس سے بچنے کے لیے عملی اور اہم سراغ فراہم کرتے ہیں۔‘
ان افراد کو ذیابیطس لاحق ہونے کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ رات کو کام کرنے والے رات کو کھانا کھاتے ہیں جس کے باعث جسم دن کے مقابلے پر زیادہ چربی ذخیرہ کرتا ہے۔
اس کے علاوہ مردوں کو لاحق اضافی خطرے کا باعث ممکنہ طور پر مردانہ ہارمون ہو سکتے ہیں۔







