بھارت اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں سرفہرست

،تصویر کا ذریعہ
ایک تحقیق کے مطابق بھارت دنیا میں اینٹی بائیوٹک دواؤں کے استعمال میں سرفہرست ہے۔
امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سنہ 2001 سے 2010 کے درمیان بھارت میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں 62 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی طور پر اوسطاً 36 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ برکس ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ) اس اضافے کے لیے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ اس فہرست میں بھارت کے بعد چین دوسرے نمبر پر ہے جبکہ امریکہ تیسرے نمبر پر۔ اس تحقیق سے اینٹی بائیوٹک دواؤں کے خلاف مدافعت کے رجحان پر روشنی پڑتی ہے۔
دوسری جانب بھارت میں دل اور ذیابیطس کے امراض کی دواؤں کی قیمت میں 35 فی صد کی کمی کی گئی ہے۔
بھارت میں دواؤں کی قیمت کا تعین کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ ذیابیطس اور دل کی بیماری میں استعمال ہونے والی ادویات اب 35 فیصد تک کم قیمت پر ملیں گی۔
اس نئے فیصلے سے دل کے امراض کی 58 فی صد ادویات اور ذیابیطس کی 21 فی صد ادویات اب قومی قیمت کنٹرول اتھارٹی کے دائرے میں ہوں گی۔
فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے اتھارٹی کے صدر این جےٹي سری نواس نے کہا: ’ہم نے اس فیصلے کو ایک ہی قسم کی دواؤں تک ہی محدود رکھا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEyewire
انھوں نے کہا: ’اگر ہم مختلف قسم کی ادویات کے مرکبات کو بھی اس زمرے میں شامل کرتے تو لوگ کہتے کہ یہ غلط ہو رہا ہے کیونکہ اس میں علاج کی خصوصیات زیادہ ہیں۔ ہم نے ویسی دواؤں اس دائرے میں شامل نہیں کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں 71 ممالک میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کے طور طریقوں اور مقدار پر تحقیق کی گئی ہے۔
بھارت میں سنہ 2001 میں آٹھ ارب یونٹ اینٹی بائيوٹك ادویات کا استعمال کیا گیا تھا جو سنہ 2010 تک بڑھ کر 12.9 ارب ہو چکا ہے۔
ریسرچ کے مطابق بھارت کے لوگ اوسطاً ہر سال 11 اینٹی بائيوٹك گولیاں کھاتے ہیں۔ لیکن فی کس ایٹی بائیوٹکس کے استعمال میں امریکی سب سے آگے ہیں جو ہر سال 22 اینٹی بائیوٹکس گولیاں کھاتے ہیں۔
اس تحقیق کے سینیئر محقق رمنن لكشمي ناراين نے بی بی سی کو بتایا: ’بھارت میں اینٹی بائيوٹك دوائیں آسانی سے مل رہی ہیں، یہ اچھی بات ہے لیکن اس کا اتنا زیادہ استعمال تشویش کا باعث ہے۔‘

رمنن نے کہا کہ ’اینٹی بائيوٹك دوائیں کئی طرح کے انفیكشنز کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ ادویات بیکٹیریا سے ہونے والی بیماریوں پر تیزی کے ساتھ اثر کرتی ہیں۔‘
انھوں نے متنبہ کیا کہ ڈاکٹر سے صلاح و مشورے کے بغیر زکام یا کھانسی کی گولی کی طرح اینٹی بايوٹکس لینا مریض کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ کئی بار سردی زکام کی وجہ الرجی بھی ہوتی ہے ایسے میں اینٹی بائيوٹك ادویات بے اثر ہوتی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر اینٹی بائيوٹك دوائیں لے رہے ہوں تو اس کا کورس ضرور مکمل کریں، درمیان میں نہ چھوڑیں۔ کئی بار مریض قدرے ٹھیک ہونے پر دوا کھانا چھوڑ دیتے ہیں، جس سے بیماری کے واپس آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔







