حلق کے آپریشن کے دوران گانا گانے کا فائدہ

فرانس میں ایک پیشہ ور گلوکارہ کے حلق سے جب ٹیومر الگ کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تو وہ گانا بھی گاتی رہیں تاکہ آپریشن کے دوران اگر ان کے ووکل کوڈز کو کوئی نقصان پہنچے تو علم ہو جائے۔
فرانس میں رہنے والی گلوکارہ الامہ کانٹے کو آپریشن کے دوران تکلیف سے بچنے کے لیے صرف لوکل اینستھیسیا دیا گیا۔
کانٹے اس بات پر بہت نروس تھیں کہ اس آپریشن کے دوران ان کے ووکل کوڈز (گلے میں جھلّی کی تہَیں جن کے ارتعاش سے آواز پیدا ہوتی) کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور وہ اپنی آواز کھو سکتی ہیں ڈاکٹر نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پورے آپریشن کے دوران گانا گاتی رہیں تو ان کے ووکل کارڈز کو نقصان نہیں پہنچے گا۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ جراحی کے دوران اگر ان کا نشتر ذرا سا بھی پھسلتا تو کانٹے ہمیشہ کے لیے اپنی آواز کھو سکتی تھی۔
پروفیسر گلز ڈھونیور نےیہ آپریشن اپریل میں کیا تھا لیکن پریس کانفرنس مہینے کے آخری ہفتہ میں کی اور اس میں وہ گانا سنوایا جو الامہ کانٹے نے آپریشن کے دوران گایا تھا۔
الامہ کانٹے کے پارہ تھائی رائڈ گلینڈ پر ٹیومر ہو گیا تھا لیکن چونکہ وہ آپریشن کے دوران گاتی رہیں اس لیے اس آپریشن کو ممکن بنایا جا سکا۔
پروفیسر کا کہنا تھا کہ اس سرجری کے دوران ناقابِلِ برداشت تکلیف ہوتی ہے اسی لیے اس طرح کے آپریش جنرل اینستھسیا میں کیے جاتے ہیں۔
اس تکنیک کے ساتھ پہلی مرتبہ یہ آپریشن کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پریس کانفرنس میں گلوکارہ الامہ کانٹے بھی موجود تھیں جن کا آپریشن کامیاب رہا اور جو اب صحتیاب ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران انہوں یہ تصور کیا کہ وہ آپریشن ٹھیٹر میں نہیں بلکہ دور بہت دور سینیگال میں ہیں۔







