مردہ شوہر کے نطفے کے لیے قانونی جنگ

برطانیہ میں ایک خاتون نے اپنے آنجہانی شوہر کے نطفے کے تباہ كیے جانے کے خلاف قانونی جنگ شروع کر رکھی ہے۔
28 سالہ بیتھ وارن کو برطانیہ کی ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریولوجی اتھارٹی نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کے نطفوں یا مادہ تولید کو اپریل 2015 کے بعد محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔
بیتھ کے شوہر کی فروری سنہ 2012 میں دماغ کے سرطان کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی تھی۔
وارن بروئر کے نطفوں کو علاج شروع ہونے سے قبل برف میں محفوظ کر لیا گیا تھا اور انہوں نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی اہلیہ کو ان کے نطفے کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
بیتھ اور وارن آٹھ سال سے ساتھ رہ رہے تھے اور انھوں نے وارن کی موت سے چھ ہفتے پہلے ہی شادی کی تھی۔
بیتھ کہتی ہیں: ’میں جانتی ہوں کہ ایسے بچے کو جنم دینا جو کبھی اپنے والد سے نہیں مل پائے گا ایک بڑا فیصلہ ہے۔ میں ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں کر سکتی اور مجھے اس کے لیے مزید وقت چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ میں کبھی اس کے لیے آگے نہ آؤں۔ لیکن میرا دکھ ذرا کم ہو تو میں کوئی فیصلہ کروں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میرے شوہر کی موت سے کچھ ہی ہفتے پہلے ایک کار حادثے میں میرے بھائی کی موت ہوئی تھی اس لیے مجھے ان دو حادثوں سے نمٹنا ہے۔‘
بیتھ کو شروع میں بتایا گیا تھا کہ ان کے شوہر کا آخری رضامندی والا خط اپریل 2013 میں ختم ہو چکا ہے تاہم اس کے بعد منظوری کی مدت میں دو بار اضافہ کیا گيا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وارن کے نطفے کو نارتھمپٹن میں ایک فرٹلیٹي مرکز میں رکھا گیا ہے۔
بیتھ وارن کے وکیل جیمز لافرڈ کا کہنا ہے کہ سنہ 2009 کے قوانین کی وجہ سے ان کی موکل کو انصاف نہیں مل پا رہا ہے۔

جیمز لافرڈ کہتے ہیں: ’بیتھ کو ان کے شوہر اور بھائی کی موت کے غم سے نجات پانے کے لیے وقت دیا جانا چاہیے۔ انہیں اس طرح کے اہم فیصلے کے لیے زندگی کے اس موڑ پر مجبور نہ کیا جائے۔‘
وارن کے نطفے کو اپریل 2015 تک استعمال کیا جانا ہے لیکن اگر انہیں پگھلا لیا گیا اور جنین بنانے میں استعمال کیا گیا تو انھیں سات سال اور رکھا جا سکتا ہے۔
اپریل 2015 کی ٹائم لائن کے اطلاق کا مطلب ہے کہ بیتھ ان کے نطفے سے ایک ہی بچے کی ماں بن سکتی ہیں۔
ان نطفوں کو بیرون بھیجنے پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں بیتھ وارن کا علاج بیرون ملک میں ہو سکتا ہے لیکن برطانیہ میں نہیں۔
اس معاملے کی سماعت اگلے سال ہائی کورٹ کے محکمۂ خاندان میں ہوگی۔
اپنی درخواست میں بیتھ وارن نے کہا ہے: ’میں جانتی ہوں کہ مستقبل میں اگر میں کسی سے ملوں اور ان کے بچے کی ماں بننا چاہوں تو محفوظ نطفے کا ایسی حالت میں استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میں نہیں جانتی کہ مستقبل میں کیا ہو گا اور میں چاہوں گی کہ میں اپنے شوہر کے بچے کی ماں بننے کا اختیار رکھوں۔‘
وہیں اتھارٹی (ایچ ایف ایی اے) کا کہنا ہے کہ انھیں بیتھ وارن سے پوری ہمدردی ہے۔
ایک بیان میں ایچ ایف ایی اے نے کہا ہے: ’ہم بیتھ وارن کے وکلاء سے بات کر رہے ہیں اور ہر بار ہمیں نئی معلومات دی جاتی ہے۔ ہم نے قانونی حیثیت کو جتنا ممکن ہوا ہے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن نطفہ یا بیضے کو محفوظ رکھنے پر قانون صاف ہے اور ان کے شوہر نے جہاں تک منظوری دی ہے اس کے آگے ہم اس مدت کو نہیں بڑھا سکتے۔‘
اس معاملے سے اپنے ساتھی کی موت کے بعد حمل کی اخلاقیات پر ازسر نو بحث شروع ہوگئی ہے۔
سنہ 1997 میں ڈيان بلڈ نے اپنے مردہ شوہر کے نطفہ سے بچہ پیدا کرنے کا حق حاصل کیا تھا۔ تب عدالت نے ایچ ایف ایی اے کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈيان بلڈ کو بیرون ملک علاج کی منظوری ملنی چاہیے۔







