’ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے طلبہ پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہOther
شمالی آئرلینڈ میں اساتذہ کی ایک یونین نے سکولوں میں بچوں کی قابلیت پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات کے سلسلے میں فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن آف ٹیچر اینڈ لیکچررز نے سکول کے اوقات کے علاوہ بچوں کے کمپیوٹروں اور دیگر ڈیجیٹل آلات پر گزارے گئے وقت کی طوالت پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ کچھ بچے نہ تو تعلیم پر توجہ دے پاتے ہیں اور نہ ہی سماجی طور پر گھلتے ملتے ہیں۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اثرات جمعرات کو بیلفاسٹ میں یونین کی سالانہ علاقائی کانفرنس کا مرکزی نکتہ بھی ہیں۔
ایسوسی ایشن آف ٹیچر اینڈ لیکچررز (اے ٹی ایل) کے مارک لینگامر کا کہنا ہے: ’ہمیں ایسے بچوں کے بارے میں اطلاعات مل رہی ہیں جو سکول میں آ کر پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنے اور باقاعدگی سے ملنے جلنے میں ناکام ہیں اور اس کی وجہ ان کی زیادہ تر وقت سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کھیلوں میں دلچسپی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ محکمۂ تعلیم والدین کے لیے ہدایات جاری کرے کہ ان کے کمسن بچے ان ڈیجیٹل آلات پر زیادہ سے زیادہ کتنا وقت گزار سکتے ہیں اور کس طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو محفوظ طریقے اور سمجھداری سے استعمال کر سکتے ہیں۔‘
مارک لینگامر نے کہا کہ اے ٹی ایل اس سلسلے میں وزیرِ تعلیم سے جلد ہی ملاقات کی درخواست دے گی اور اس ملاقات میں ان پر فوری اقدامات کے لیے زور دیا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بچوں کو حاصل ہونے بڑے فوائد کی قدر کرتے ہیں لیکن اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں آگہی کی کمی ہے اور ہمارے خیال میں محکمۂ تعلیم کو والدین کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پرائمری سکول کی استاد ایما کوئن کے مطابق سکرین کے سامنے گزارے گئے وقت کے اثرات سکول میں بچوں پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’کئی طالبعلم تعلیم میں یکسر دلچسپی نہیں لیتے اور یہ آلات ان کی سمجھنے کی صلاحیت کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔‘
ایما نے یہ بھی بتایا کہ ان کی جماعت کے سات سے نو سال بچوں میں سے کم از کم نصف ایسے ڈیجیٹل گیمز کھیلتے ہیں جو نوجوانوں یا بالغوں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔







