’حاملہ خواتین کی اموات میں کمی‘

،تصویر کا ذریعہth
عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں حاملہ خواتین کی اموات کے واقعات میں کمی آئی ہے اور 1990 کے مقابلے میں حاملہ خواتین کی حمل یا زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں 45 فیصد کمی آئی ہے۔
ادارے کی رپورٹ کے مطابق دورانِ حمل یا دورانِ پیدائش ہلاکتوں کی وجوہات کے سلسلے میں نئے شواہد بھی دیے گئے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں میں سے زیادہ تر ایسی ہیں جن کو روکا جا سکتا تھا اور رپورٹ حاملہ خواتین کے علاج میں زیادہ سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
1990 میں حمل یا زچگی کے دوران ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ تھی، جب کہ 2013 میں یہ تعداد دو لاکھ 89 ہزار رہ گئی ہے۔
تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے اور ہر گھنٹے میں دنیا بھر میں 33 خواتین انہی وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوتی ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان بھی اس سلسلے میں فرق بہت زیادہ ہے۔ افریقہ کے زیرِ صحارا خطے میں کسی 15 سالہ بچی کے حمل یا زچگی کے دوران ہلاک ہونے کا امکان 40 میں ایک ہے جبکہ یورپ میں یہ شرح 3300 میں ایک ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو صحتِ عامہ کے میدان میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
صحتِ عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ایسے بھی شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ امر یکہ جیسے کچھ امیر ممالک میں عورتوں کے حمل یا زچگی کے دوران ہلاک ہونے کے امکان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حمل یا زچگی کے دوران ہونے والے اموات میں ہر چار میں سے ایک کی اصل وجہ ماں کو پہلے ہی سے لاحق طبی مسائل ہوتی ہے جیسے ایچ آئی وی، ذیابیطس، ملیریا یا انتہائی زیادہ موٹاپا۔







