ہیپیٹائٹس سی کا علاج ممکن!

اس سال کے آخر تک یہ علاج برطانیہ میں دستیاب ہو گا۔
،تصویر کا کیپشناس سال کے آخر تک یہ علاج برطانیہ میں دستیاب ہو گا۔

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہیپیٹائٹس سی کے ایک طریقۂ علاج سے 90 فیصد مریضوں کو بارہ ہفتوں میں صحت یاب کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ہیپیٹائٹس کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت ہے ۔

صرف برطانیہ میں ہی دو لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ہونے والی اموات 1996 کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئی ہیں۔ موجودہ علاج جو صرف کچھ صورتحال میں فائدہ مند ہے اسے برطانیہ کے صرف تین فیصد مریض ترجیح دیتے ہیں۔ ہیپیٹائٹس سی ایسا مرض ہے جس سے انسانی جگر متاثر ہوتا ہے۔ یہ مریض کے خون یا جسمانی رتوبتوں سے پھیلتی ہے اور ٹیٹو سویاں یا نشہ کے لیے مشترکہ استعمال ہونے والی سویوں سے بھی پھیل سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ٹیکسس کے صحت اور سائنس سینٹر میں موجود محقیقین نے کھانے والی نئی دوا کا ٹیسٹ2013 میں سپین، جرمنی اور انگلینڈ اور امریکہ کے 78 سینٹرز میں 380 مریضوں پر کیا۔ اس سلسلے میں دو تحقیقات کی گئی تھیں ایک جس میں مریض بارہ ہفتے سے مرض میں مبتلا تھا اور دوسری جس میں مریض چوبیس ہفتوں سے مرض میں مبتلا تھے۔ یہ مریض ’لیور سیروسز‘ میں مبتلا تھے جس سے ان میں مرض بہت بڑھ چکا تھا۔

بارہ ہفتوں کے تجربے کے بعد 208 میں سے 191 مریضوں میں ہیپیٹائٹس سی کا مرض موجود نہیں تھا ۔ کچھ دیر بعد 172 میں سے 165 مریضوں میں مرض ختم ہوا اور دو ہفتے بعد 96 فیصد مریض صحت یاب ہو چکے تھے۔

تحقیق میں شامل ڈاکٹر فریڈ پورڈیڈ کا کہا تھا کہ ’ یہ زبردست بات ہے۔ میں مریضوں کے لیے بہت خوش ہوں۔ یہ اپنے مستقبل کے بارے میں اب پر امید ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ نئی دوا ہیپیٹائٹس سی بنانے والی پروٹین پر حملہ کرتی ہے اور اسے بڑھنے سے روکتی ہے یہاں تک کہ مرض بالکل ختم ہو جائے۔ اس دوا کے استعمال سے کچھ منفی اثرات یا ’سائڈ ایفیکٹ‘ ہوئے جن میں مریضوں کو تھکن کا احساس، سر درد، اور متلی کی شکایت رہی۔

ہیپیٹائٹس سی کے موجودہ علاج میں ایک سال کے لیے ٹیکے لگائے جاتے ہیں جن کے سائڈ ایفیکٹ کی وجہ سے مریضوں میں ڈیپریشن، تھکن اور متلی کی شکایت عام ہے۔ ڈاکٹر پورڈیڈ کا مزید یہ کہنا تھا کہ یہ دوا لیور سیروسز کے مریضوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔

گکیکاس ماجیورکنس یونیورسٹی آف آکسفرڈ میں ماہر امراض ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ نئی دوا ہیپٹائٹس کے علاج میں ’ ایک بڑی پیش رفت ہے۔‘

ہیپیٹائٹس سی ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹیو چارلس گور کا کہنا ہے کہ ’ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت زبردست پیش رفت ہے۔ اب ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ ہم بغیر کسی ویکسین کے ہیپٹائٹس سی کو برطانیہ میں سے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مرض کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے سیاسی رضامندی بہت ضروری ہے جو برطانیہ میں موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال کے آخر تک یہ علاج برطانیہ میں دستیاب ہو گا۔