خلا بازوں کو کرسمس کے تحائف مل گئے

 کرسمس کے تحائف میں خلا بازوں کے لیے تازہ پھل بھی شامل ہیں
،تصویر کا کیپشن کرسمس کے تحائف میں خلا بازوں کے لیے تازہ پھل بھی شامل ہیں

ایک خلائی راکٹ بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر رسد لے کر پہنچا ہے جس میں وہاں موجود خلا بازوں کے لیے کرسمس کے تحائف بھی ہیں۔

امریکی ریاست ورجینیا سے روانہ ہونے کے تین دن بعد امریکی خلائی ادارے ’او ایس سی‘ کا مال بردار خلائی راکٹ اتوار کو خلائی مرکز پر پہنچا۔

خلائی جہاز پر بین الاقوامی خلائی مرکز کے لیے ایک اعشاریہ دو ٹن رسد موجود ہے۔

رسد میں ملبوسات، خوراک، اضافی پرزے، سائنسی آلات اور کرسمس کے تحائف ہیں جس کا خلا بازوں کو شدت سے انتظار تھا۔

کرسمس کے تحائف میں وہاں موجود چھ خلا بازوں کے لیے تازہ پھل بھی شامل ہیں۔

اس خلائی راکٹ نے پروگرام کے مطابق گذشتہ سال دسمبر میں کرسمس سے پہلے روانہ ہونا تھا لیکن خلائی سٹیشن میں پہلے خرابی آنے، بعد میں خراب موسم اور شدید شمسی طوفان کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکن آربیٹئل کارپویشن’او ایس سی‘ کا خلائی راکٹ سِگنس نے دوسری بار خلائی سٹیشن پر رسد پہنچائی ہے اور اس نے امریکی خلائی ادارے ناسا سے ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر کا معاہدہ کر رکھا جس کے تحت آٹھ بار خلائی سٹیشن پر سامان پہنچایا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایک اور خلائی ادارے سپیس ایکس نے ناسا سے خلائی سٹیشن پر تک رسد پہنچانے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔

خلائی سٹیشن تک سفر کے لیے صرف روسی سوئیز کیپسول استعمال ہوتے تھے لیکن اب ناسا امریکی کمپنیوں کے ان کا متبادل تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو 2020 تک استعمال میں رہنا تھا تاہم اب وائٹ ہاؤس اسے 2024 تک سروس میں رکھنے کا حامی ہے۔ ناسا کے بہت سے اہل کاروں کا خیال ہے کہ یہ سٹیشن 2028 تک محفوظ انداز میں کام کر سکتا ہے۔