برطانیہ: بغیر ڈرائیور کی گاڑیوں کا منصوبہ

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو دنیا بھر میں بغیر ڈرائیور کے گاڑیوں کا مرکز بنانا چاہتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں کو برطانیہ کی سڑکوں پر لانے کے لیے اگلے سال اس سے متعلق قانونی اور انضباتی ڈھانچے پر نظرثانی کی جائے گی۔
حکومت اس شہر کے لیے جہاں ان گاڑیوں کا ٹیسٹ کیا جائے گا، ایک کڑور پاونڈ کا فنڈ بھی مختص کرے گی۔
برطانیہ کے علاقے ملٹن کینز میں پہلے ہی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی چھوٹی گاڑیوں یعنی ’پوڈز‘ کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے مطابق 2017 کے وسط تک ایسی سو آٹومیٹنک گاڑیاں چلائی جائیں گی۔ ان گاڑیوں میں موجود سینسرز کی مدد سے یہ ٹکر سے بچ سکیں گی۔
گوگل کی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے اور اس کی ایک گاڑی نے حال ہی میں پچاس لاکھ میل کا سفر مکمل کیا ہے۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا، نیواڈا اور فلوریڈا میں بغیر ڈرائیور کی ان گاڑیوں کے لیے نیا قانون منظور کر لیا گیا ہے۔
رواں ماہ گاڑیاں بنانے والی کمپنی نیسان نے چاپانی ہائی وے پر بغیر ڈرائیور چلنے والی گاڑیوں کا پہلا تجربہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سافٹ وئیر انجینیر اور گوگل کے گاڑیوں کے پروجیکٹ کے مشیر بریڈ ٹیمپلٹن کا کہنا تھا کہ ’ میں اسے ایسی سہولت کہوں گا جسے آپ جب ضرورت پڑے استعمال کر لیں۔ آپ موبائل فون نکالیں اسے بتائیں کہ آپ کہاں جائیں گے اور کتنے مسافر ہوں گے اور کچھ ہی دیر میں گاڑی آپ کے سامنے آ جائے گی۔‘
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان گاڑیوں کی وجہ سے ماحوں میں آلودگی کم ہو گی۔







