یورپ: تمباکو نوشی کے سخت قوانین پر غور

یورپی پارلیمان میں منگل کو رکن ممالک میں تمباکو نوشی کے قوانین سخت کرنے پر ووٹنگ ہو رہی ہے اور اس اقدام کا مقصد نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
اگر یہ قانون منظور ہوگیا تو اس کے تحت جہاں الیکٹرانک سگریٹ کی دستیابی کو محدود کر دیا جائے گا وہیں مینتھول اور دیگر ذائقہ دار سگریٹوں پر پابندی لگ سکتی ہے جبکہ سویڈین کے علاوہ یورپی یونین میں دس سگریٹوں والے پیکٹ بھی فروخت نہیں کیے جا سکیں گے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد ہونے کے بعد تمباکو سے عاری ای سگریٹس کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
لیکن تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت خطرناک ہے۔ ان کے مطابق ای سگریٹ تمباکو نوشی کے خلاف برسوں سے جاری کوششوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔
ای سگریٹ میں نکوٹین اور دیگر کیمیائی مادوں کو بخارات کی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے اور سگریٹ پینے والا یہ بخارات سانس کے ساتھ اندر لے جاتا ہے۔
یہ سگریٹ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی مصنوعات دنیا میں لاکھوں جانیں بچانے کی اہلیت رکھتی ہیں اور ان کا استعمال محدود نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ ان سے تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں میں ڈرامائی طور پر کمی آ سکتی ہے۔
یورپی پارلیمان میں یہ سخت قوانین پیش کرتے ہوئے یورپی یونین کے کمشنر برائے صحت ٹونیو بورگ نے کہا کہ ’تمباکو کی مصنوعات کو شکل اور ذائقے میں تمباکو کی مصنوعات ہی لگنا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کے پیکٹ اتنے بڑے ہونے چاہییں کہ اس پر تنبیہی پیغام واضح طور پر شائع ہو سکے اس لیے وہ کم از کم 20 سگریٹ والے پیکٹ بنانے کی تجویز دے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت یورپی یونین کے 14 ممالک میں کم از کم 20 سگریٹ کا پیکٹ ہی فروخت ہوتا ہے جب کہ چار میں یہ تعداد 19 اور برطانیہ اور اٹلی میں دس ہے۔
یہ کہا جاتا ہے کہ سگریٹ کا بڑا پیکٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے نوجوان سگریٹ نوشوں کے لیے اس عمل کو ترک کرنے کی ایک وجہ بن سکتا ہے۔
ہیلتھ کمشنر نے بتایا کہ ہر برس یورپ میں سات لاکھ افراد تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔







