سرکاری تحویل سے 42 کروڑ سگریٹ ’گُم‘

امریکہ میں محکمۂ انصاف کے ذیلی ادارے کے آڈٹ کے دوران پتا چلا ہے کہ خفیہ آپریشنز کے دوران خریدے گئے 42 کروڑ سگریٹ ’گُم‘ ہوگئے ہیں۔
آڈٹ کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بیورو آف الکوحل، فائر آرمز اینڈ ایکسپلوسوز (اے ٹی ایف) کے ایجنٹوں نے خفیہ طور پر تمباکو کی فروخت سے 16 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کمائے۔
یہ رقم 2006 سے 2011 کے دوران خفیہ آپریشنوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔
یہ معلومات اے ٹی ایف کی جانب سے خفیہ منافع کی رقوم کے استعمال کے آڈٹ کے دوران سامنے آئی ہیں۔
بدھ کو جاری کی گئی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے ٹی ایف نے خفیہ آپریشنز کے دوران پکڑی جانے والی اشیاء کو سرکاری خزانے میں جمع کروانے کی بجائے اپنے آپریشنز پر آنے والے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا۔
انسپکٹر جنرل مائیکل ہورووٹز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اے ٹی ایف کے مینیجر اکثر تحقیقات کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے اور وہ خفیہ آپریشنز کے دوران خریدی جانے والی اشیا کی مناسب جانچ پڑتال میں بھی ناکام رہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسی ہی ایک تحقیقات کے دوران ایجنٹوں نے 18 ماہ کے دوران ڈیڑھ کروڑ ڈالر مالیت کے سگریٹ فروخت کیے جبکہ ایک مخبر کو اس کی خدمات کے عوض 49 لاکھ ڈالر مالیت کے سگریٹ اپنے پاس رکھنے کی اجازت بھی دی گئی۔
انسپکٹر جنرل کے دفتر کے مطابق اے ٹی ایف نے 20 معاملات میں سگریٹوں کے 99 لاکھ کارٹن خریدے لیکن مناسب دستاویزات نہ رکھے جانے کی وجہ سے ان میں سے 21 لاکھ کارٹنوں یا 42 کروڑ سگریٹوں کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔ ان سگریٹوں کی مالیت 12 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اے ٹی ایف کے ڈائریکٹر ٹاڈ جونز نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کے ادارے نے پہلے ہی اپنے ضابطۂ کار اور ضابطۂ اخلاق کو مزید سخت کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں بیان کی گئی تفصیلات اے ٹی ایف کی موجودہ پالیسی یا طریقۂ کار کی عکاس نہیں ہیں۔







