لیبارٹری میں تیار کیاگیا دنیا کا پہلا برگر

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پیر کے روز ایک کانفرنس کے دوران لیب میں تیار کیےگئے دنیا کے پہلے برگر کی نمائش کی گئی اور اسے پکا کر کھایا بھی گیا۔
سائنس دانوں نے نیدرلینڈ کی تجربہ گاہ میں گائے کے خلیوں سےگوشت کی پتلی پٹیاں بنائیں اور پھر انہیں جمع کر کے ان سے کباب تیار کیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ گوشت کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کے لیے یہ نئی تکنیک مستحکم طریقہ ثابت ہوسکتی ہے۔
لیکن اس پر نکتہ چینی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ کھانے کی کمی کو کم گوشت کھا کر آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔
جس تجربہ گاہ میں تقریباً سوا دو لاکھ ڈالر کی لاگت سے اس گوشت کو تیار کیا گیا۔ اس میں بی بی سی کو رسائی کی خصوصی اجازت دی گئی تھی۔
اس برگر کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے ماسٹرچ یونیورسٹی کے پروفیسر مارک پوسٹ کا کہنا ہے ’آج ہی ہم خلیوں سے تجربہ گاہ میں تیار کیےگئے دنیا کے پہلے ہیم برگر کو پیش کرنے والے ہیں۔ ہم یہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ مویشیوں سےگوشت کا حصول ماحولیات کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ اس سے دنیا میں بڑھتی ہوئی گوشت کی مانگ کو بھی نہیں پورا کیا جاسکتا اور نہ ہی یہ مویشیوں کے لیے اچھا ہے۔‘
لیکن آکسفرڈ یونیورسٹی میں شبعۂ فوڈ پالیسی ریسرچ نیٹ ورک کی سربراہ پروفیسر تارا گرینیٹ کا کہنا ہے ’ہم ایک ایسی صورت حال میں ہیں جہاں تقریباً ایک ارب 40 کروڑ افراد کا وزن زیادہ ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب لوگ بھوکے رہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا ’یہ بہت خراب اور ناقابل قبول بات ہے۔ اس کا حل زیادہ پیداوار میں نہیں بلکہ سپلائي، رسائی اور خریدنے کی استطاعت کے نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ صرف زیادہ ہی نہیں بلکہ ضرورت مندوں کو اچھا کھانا بھی مل سکے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سٹیم سیلز جسم کے وہ اہم خلیے ہیں جس سے ہر قسم کے خلیے بنائے جا سکتے ہیں۔
بیشتر ادارے جو اس شعبے میں کام کر رہے ہیں وہ پیوند کاری، خراب شدہ پٹھوں کی تبدیلی یا اعصابی سیلز بدلنے کے لیے انسانی اعصابی خلیوں کو تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پرفیسر مارک پوسٹ غذا کے لیے اسی تکنیک کا استعمال کر کے گوشت اور چربی تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس طریقے سے سائنس دانوں نے جو گوشت تیار کیا وہ بالکل اپنے اصل رنگ کی طرح سفید رنگ کا ہے۔ لیکن پروفیسر پوسٹ کے ساتھ کام کرنے والی ہیلین بریوڈ نے قدرتی مادہ مائیوگلوبن ملا کر اس گوشت کو لال رنگ کا کر دیا۔
وہ کہتی ہیں ’اگر وہ عام گوشت کی طرح نہیں نظر نہ آئے اور اس کا ذائقہ گوشت کی طرح نہیں ہو تو پھر یہ مناسب متبادل نہیں ثابت ہوسکتا۔‘
بریوڈ خود سبزی خور ہیں لیکن انہوں نے تجربہ گاہ میں تیار کیا گیا برگر کھایا۔
وہ کہتی ہیں ’پہلے تو بہت سے لوگوں کو تجربہ گاہ میں تیار کیےگئے برگر سے کراہت ہوگي۔ لیکن اگر وہ اس پہلو پر غور کریں کہ مذبحہ خانوں میں گوشت کیسے تیار کیا جاتا ہے تو میرے خیال سے انہیں اس سے بھی زیادہ کراہت ہوگی۔‘
مویشیوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس نئی تکنیک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ماحولیات کا فائدہ ہوگا اور غذا کی سپلائی کا نظام بھی بہتر ہوگا۔
لیکن کھانے کے بعض ماہرین نے اس ایجاد پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی پیش رفت سے لوگ مزید فطری خوراک سےدور ہوں گے جو صحت کے لیے قطعی اچھی بات نہیں ہے۔







