پنجاب کے بچوں پر خسرے کا سایہ

ویکیسن نہ ہونے کے باعث ہی خسرے نے پنجاب میں وبا کی صورت اختیار کر لی ہے۔ کہیں اس میں محکمۂ صحت کی کوتاہی رہی تو کہیں والدین کی
،تصویر کا کیپشنویکیسن نہ ہونے کے باعث ہی خسرے نے پنجاب میں وبا کی صورت اختیار کر لی ہے۔ کہیں اس میں محکمۂ صحت کی کوتاہی رہی تو کہیں والدین کی
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور کے ملتان روڈ پر شیرا کوٹ دربار کی نواحی آبادی میں چھ ماہ سے دس برس تک کی عمر کے بچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ لاہور ہی نہیں پنجاب بھر میں آج کل اس عمر کے بچوں پر موت کا سایہ منڈلا رہا ہے۔

اسی آبادی میں ناصرہ کا گھر بھی ہے جس کا نو ماہ کا بیٹا احسان چند روز پہلے خسرے کی وجہ سے دم توڑ چکا ہے اور اب ناصرہ کی دو سالہ بچی بھی خسرے کا شکار ہے۔

ناصرہ کہتی ہیں، ’اچھے خاصے بچے لے کر گاؤں گئی تھی وہاں احسان کو ٹیکہ لگوایا جس کے بعد اسے بخار چڑھ گیا۔ کئی ڈاکٹروں کو دکھاتے رہے لیکن کسی نے نہیں بتایا کہ اسے خسرہ نکلا ہے۔ جب پتا چلا کہ خسرہ ہے تو احسان کو ہسپتال لے گئے، بس ایک رات نکالی اور پھر ختم ہوگیا۔‘

ناصرہ کو یہ تو یاد نہیں کہ اس نے اپنے بچوں کو کن بیماریوں سے بچاؤ سے ٹیکے لگوائے ہیں، بس وہ یہ جانتی ہے کہ دونوں بچوں میں سے کسی کا نو ٹیکوں کا کورس مکمل نہیں ہوا۔ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے کارڈ بھی کہیں کھو چکے ہیں۔

پاکستان گذشتہ چند ماہ خسرے کی لپیٹ میں ہے۔ موسمِ سرما کے دوران سندھ سے شروع ہونے والی یہ وبا اب پنجاب میں پوری طرح پھیل چکی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعدادوشمارکے مطابق پنجاب میں اب تک خسرے کے 14 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں 112 کے لگ بھگ بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ خسرے سے سب سے زیادہ ہلاکتیں لاہور میں ہوئیں۔

لاہور کے ہسپتالوں میں خسرے کے مریضوں کا تانتا بندھا ہے۔ چلڈرن ہسپتال میں منظوراں بی بی بھی کئی روز سے اپنی ایک سالہ پوتی فاطمہ کے ساتھ خسرے میں مبتلا بچوں کے خصوصی وارڈ میں موجود ہے۔ فاطمہ ان بہت سے بچوں میں سے ایک ہے جسے نو ماہ کی عمر میں خسرے سے بچاؤ کا ٹیکہ نہیں لگوایا گیا۔

منظوراں کہتی ہیں، ’ایک ٹیکہ لگا تو اس کی ماں اپنے میکے چلی گئی مجھے معلوم نہیں کہ اس کی ماں نے ٹیکے پورے کروائے یا نہیں۔ تین دن سے ہپستال میں ہوں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں بچی کو خسرہ نکل آیا ہے۔ بخار میں ہے، نہ بولتی ہے نہ چلتی ہے نہ ہنستی ہے نہ ہی ماں کو آواز دیتی ہے بس منہ میں پانی ڈالیں تو پی لیتی ہے۔‘

ماہرین کے مطابق غدا کی کمی والدین کی لاپروائی، علاج کے پرانے طریقوں پر انحصار اور ہسپتال لانے میں تاخیر بھی خسرے سے ہلاکتوں کا سبب بن رہے ہیں تاہم اگر بچوں کو بروقت حفاظتی لگائے گئے ہوں تو بچوں کے اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔

پنجاب میں سب سے زیادہ خسرے کے مریض لاہور میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہے۔ تو کیا لاہور میں بچوں کو یہ ٹیکے نہیں لگ سکے؟

لاہور کے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ محمد ذوالفقار کہتے ہیں، ’بچوں کو خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں، ایک نو ماہ اور دوسرا 15 ماہ کی عمر میں۔ لاہور ایک کروڑ کی آبادی کا شہر ہے جہاں ایک یونین کونسل کی آبادی 60 سے 70 ہزار تک ہے۔ ایک یا دو ویکسینیٹرز کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ پورے علاقے کو دیکھ سکے۔ لیکن اس میں عملے کی کوتاہی بھی شامل ہے۔ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ معمول میں ہماری حفاظتی ٹیکوں کی مہم کہیں نہ کہیں ادھوری رہی جس سے ہم یہ وبا روکنے میں ناکام رہے۔‘

پورے صوبے کی صورتحال لاہور سے کچھ مختلف نہیں۔ پنجاب میں 58 فیصد بچے ایسے ہیں جنہں خسرے کی ویکیسن دی گئی ہے۔ وبا پھیلنے کے بعد لاہور میں ویکسین کی خصوصی مہم چلائی گئی جس میں 26 لاکھ بچوں کو ٹیکے لگائے گئے۔

پنجاب کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تنویر احمد شائق کا کہنا ہے، ’ہم اس وقت بھی یونیسف کے ذریعے ویکسین فرانس سے درآمد کررہے ہیں اور اسے محفوظ کرنے کے لیے کولڈ چین بھی بنا رکھی ہے۔ اس لیے اس کی کوالٹی پر کوئی سوال ہو ہی نہیں سکتا۔ کچھ اضلاع میں تو 80 فیصد تک بچوں کی ویکسینیشن ہوچکی ہے جب کہ کہیں یہ شرح 40 فیصد سے بھی کم ہے۔ کچھ علاقوں میں انتظامی مسائل ہیں جہاں حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کی صیح نگرانی نہیں ہوسکی۔‘

ویکیسن نہ ہونے کے باعث ہی خسرے نے وبا کی صورت اختیار کر لی ہے۔ کہیں اس میں محکمۂ صحت کی کوتاہی رہی تو کہیں والدین کی۔

لیکن ناصرہ نے تو احسان کی موت سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ناصرہ کہتی ہیں، ’اگر میں ٹیکہ نہ لگواتی تو احسان بچ جاتا۔ اب تو مجھے ڈر لگتا ہے میں تو اپنی بچی کو ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں لے جاتی ہسپتال لے جانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ بس اس کی زندگی لکھی ہوئی تو بچ جائے گی۔‘

خسرے کی وبا صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں۔ رواں برس کے پہلے تین ماہ کےدوران برطانیہ میں خسرے میں مبتلا بچوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ ان میں بھی زیادہ تعداد ان بچوں کی ہے جنہیں والدین نے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔