سرجری کے زخموں کے لیے سوئیوں والی پٹّی

سرجری کے زخموں کو مندمل کرنے کے لیے امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسی پٹّی تیار کی ہے جس کی قوتِ گرفت انتہائی مضبوط ہے۔ اس مقصد کے لیے اس میں انتہائی چھوٹی سوئیاں اس میں نصب کی گئی ہیں۔
سائنس دانوں کو ’سوئیوں کی پٹی‘ نامی اس ٹکڑے کی تیاری کا خیال ایک کیڑے کو دیکھ کر آیا جو مچھلیوں کے پیٹ میں رہتا ہے۔ یہ کیڑا اپنے کیکٹس کے پودے جیسے خاردار تلووں کے ذریعے مچھلیوں کی بڑی آنت سے چپکا رہتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ پٹی جلد کو مضبوطی سے پکڑ لیتی ہے اور اس میں ٹانکے لگانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
اس کے موجدوں کا کہنا ہے کہ جلے ہوئے مریضوں پر فی الوقت استعمال ہونے والے مادوں سے یہ پٹی تین گنا زیادہ مضبوط ہے۔
سائنسی جریدے ’نیچر کمیونی کیشنز‘ میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جانوروں پر اس کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔
برنگھم اینڈ ویمن ہسپتال سے منسلک طبی ٹیم کا کہنا ہے چار مربع سنٹی میٹر کے اس ٹکڑے کی سوئیوں کے ذریعے ادویات بھی جسم میں پہنچائی جا سکتی ہیں۔

زیادہ تر زخموں پر لگائی جانے والی پٹیاں نم جلد پر اچھی طرح نہیں چپکتیں۔انھیں چپکانے کے لیے سٹیپل اور ٹانکے لگانے پڑتے ہیں جن سے بہرحال جلد کے خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ڈاکٹر جیفری کارپ اور ان کی ٹیم نے فطرت سے رہنمائی حاصل کی تو انھیں طفیلی یا جینے کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے والا جونک نما کیڑا ملا، جس کا سائنسی نام Pomphorhynchus laevis ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ طفیلی جاندار اپنے آپ کو اپنے میزبان کی آنت کی پھسلواں سطح پر اپنی انتہائی چھوٹی کانٹے دار سطح کے ذریعے چپکا لیتا ہے۔ اس کا کانٹے دار حصہ میزبان جانور کی جلد میں پیوست ہو جاتا ہے اور پھر بھیگ کر پھول جاتا ہے تاکہ گرفت مضبوط ترین ہو سکے۔
ڈاکٹر کارپ کا تیار کردہ ٹکڑا اسی عمل کی نقل ہے جس میں انتہائی باریک پلاسٹک کی سوئیاں استعمال کی گئی ہيں۔ اس کی سوئیاں جب خشک ہوں تو سخت ہوتی ہیں لیکن نم خلیوں میں پیوست ہونے کے بعد پھول جاتی ہیں۔
ڈاکٹر کارپ نے کہا: ’اس انوکھے ڈیزائن کے نتیجے میں سوئیوں کو نرم خلیوں سے چپکنے میں مدد ملتی ہے اور خلیوں کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’اس کے علاوہ اسے ٹانکوں اور سٹیپل کے مقابلے زیادہ آسانی سے جلد سے الگ کیا جا سکتا ہے، اور اس میں کم درد اور خلیوں، خون اور اعصاب کا کم نقصان ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں انفیکشن کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔‘







