’خوف کے سات منٹ‘ اور پھر کامیاب لینڈنگ

کیوروسٹی نے مریخ پر اترنے کے فوراً بعد سیارے کی سطح کی چند عام تصاویر زمین پر بھیجی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکیوروسٹی نے مریخ پر اترنے کے فوراً بعد سیارے کی سطح کی چند عام تصاویر زمین پر بھیجی ہیں

امریکی خلائی ادارے ناسا کی مریخ پر بھیجی جانے والی خلائی گاڑی ’کیوروسٹی‘ کامیابی سے سیارے کی سطح پر اتر گئی ہے۔

اس مشن کو خلائی تاریخ کا ایک انتہائی جرات مندانہ مشن قرار دیا جاتا ہے اور یہ ایک ٹن وزنی روبوٹک گاڑی سیارے پر اپنے دو سالہ قیام کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ آیا کبھی مریخ پر زندگی کے آثار موجود تھے یا نہیں۔

اس مشن کا مقصد مریخ کے گیل نامی گڑھے میں واقع پانچ کلومیٹر اونچے پہاڑ پر تحقیق کرنا ہے۔ یہ گاڑی اس پہاڑ پر چڑھ کر نمونے جمع کرے گی اور ان چٹانوں کا جائزہ لے گی جو اربوں سال قبل سے وہاں موجود ہیں۔

اس گاڑی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق پیر کی صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے مریخ کے خطِ استواء کے قریب واقع ایک گہرے گڑھے میں اتارا گیا۔ یہ سارا عمل ایک خودکار طریقے مکمل ہوا اور اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ سافٹ وئیر کا استعمال بھی کیا گیا۔

روبوٹک گاڑی کے بحفاظت مریخ پر اترنے کا تصدیقی سگنل اس سرخ سیارے کے گرد گردش کرنے والے ناسا کے اوڈیسی سیارچے نے زمین پر بھیجا۔

کیوروسٹی نے مریخ پر اترنے کے فوراً بعد سیارے کی سطح کی چند عام تصاویر زمین پر بھیجی ہیں جبکہ ہائی ریزولیوشن تصاویر کی آمد کا سلسلہ ایک سے دو دن میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

کیوروسٹی تیرہ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے جب مریخ کی فضا میں داخل ہوئی تو اس کی رفتار بڑھ کر اکیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گئی۔ مریخ کی فضا میں داخل ہونے کے ٹھیک سات منٹ کے بعد کیوروسٹی سیارے کی سطح پر اتری۔

کامیاب لینڈنگ کے بعد ناسا کا خلائی مرکز تالیوں سے گونج اٹھا

،تصویر کا ذریعہnasa

،تصویر کا کیپشنکامیاب لینڈنگ کے بعد ناسا کا خلائی مرکز تالیوں سے گونج اٹھا

زمین سے مریخ تک کے پانچ سو ستر ملین کلومیٹر کے سفر کے بعد اس روبوٹک گاڑی کے مریخ کی سطح پر اترنے کے عمل کو ’خوف کے سات منٹ‘ کا نام دیا گیا تھا اور کامیاب لینڈنگ کے بعد ناسا کا خلائی مرکز تالیوں سے گونج اٹھا تاہم اس کامیاب لینڈنگ کی تصدیق کے لیے سائنسدانوں کو مزید تیرہ منٹ انتظار کرنا پڑا۔

یہ ناسا کی جانب سے مریخ پر بھیجی جانے والی چوتھی روبوٹک گاڑی ہے تاہم یہ اب تک کا سب سے بڑا مشن ہے۔ ناسا نےگزشتہ سال نومبر میں ایک کیپسول میں بند یہ خلائی گاڑی اٹلس راکٹ فائیو کی مدد سے فلوریڈا میں واقع کیپ کینیورل سے روانہ کی تھی۔

مریخ بھیجے جانے والے دو تہائی مشن ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی مریخ کی ہلکی مگر خطرناک فضا میں پہنچ کر کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

خلائی گاڑی جسے مریخ پر سائنسی تجربہ گاہ بھی کہا جاتا ہے سیارے پر زندگی کے شواہد جمع کرنے کے لیے اب تک بنایا جانے والا سب سے مہنگی اور جدید ترین روبوٹ گاڑی ہے اور ناسا کے اس مشن پر ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔