امریکہ: سام سنگ ٹیبلٹ کی فروخت پر پابندی

’سام سنگ کو مقابلے کا حق حاصل ہے لیکن یہ مقابلہ غیرمنصفانہ نہیں ہونا چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’سام سنگ کو مقابلے کا حق حاصل ہے لیکن یہ مقابلہ غیرمنصفانہ نہیں ہونا چاہیے‘

ایک امریکی عدالت نے سام سنگ اور ایپل کے مابین جاری پیٹنٹ کے تنازع کے تصفیے تک ملک میں سام سنگ کے ٹیبلٹ کمپیوٹر گلیکسی ٹیب 10.1 کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔

ایپل کا دعویٰ ہے کہ سام سنگ نے اس کے ڈیزائن کی نقل کی ہے اور اس کی ٹیبلٹ ایپل کے آئی پیڈ سے بےحد مشابہہ ہے۔

سام سنگ کے گلیکسی کو ٹیبلٹ کمپیوٹرز کی دنیا میں آئی پیڈ کا سب سے بڑا حریف سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج لوسی کوہ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اگرچہ سام سنگ کو مقابلے کا حق حاصل ہے لیکن یہ مقابلہ غیرمنصفانہ نہیں ہونا چاہیے‘۔

بی بی سی کو بھیجی گئی ایک ای میل میں سام سنگ نے کہا ہے کہ کمپنی اس سلسلے میں ’ضروری قانونی اقدامات کرے گی‘ اور اس فیصلے کا اس کے کاروبار پر زیادہ اثر نہیں پڑےگا۔

ایپل اور سام سنگ دنیا میں سمارٹ فونز اور ٹیبلٹ کمپیوٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہیں اور ماضی میں بھی یہ دنیا کے کئی ممالک میں ایک دوسرے پر قانونی دعوے کرتی رہی ہیں۔

جہاں امریکی کمپنی اپیل نے سام سنگ پر آئی پیڈ کے ڈیزائن اور شکل کی نقل کرنے کا الزام لگایا ہے وہیں جنوبی کوریائی کمپنی نے اپیل پر سمارٹ فونز اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز پر انٹرنیٹ چلانے کے حوالے سے نقل کا دعویٰ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی جج کا حالیہ فیصلہ اس قانونی لڑائی میں ایک اہم قدم ہے۔

سیلیکون ویلی میں قانون کی استاد کولین چین کا کہنا ہے کہ ’ایپل کو دی جانے والی یہ سہولت بہت ہی اہم ہے۔ ابتدائی مراحل میں اس قسم کے احکامات شاذونادر ہی دیے جاتے ہیں‘۔