عظیم آتش فشانوں کی عمر کتنی ہوتی ہے؟

لانگ ویلی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننئی تحقیق کے مطابق آتش فشاں کم مدت میں ہی پھٹ سکتا ہے

آتش فشانوں کے بارے میں نئی تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ عظیم آتش فشاں تیار ہونے میں پرانے اندازوں سے کم وقت لگتا ہے جو چند صدیاں ہے۔

ان بڑے آتش فشاں کو سائنسدانوں نے ’سوپر والکینو‘ کا نام دیا ہے۔ ان کے بارے میں پہلے یہ خیال تھا کہ ان کو لاوا اگلنے میں دو لاکھ سال لگ سکتے ہیں۔

تحقیق کاروں نے کیلیفورنیا کی لانگ ویلی میں سوپر آتش فشاں کی جگہ پر چٹانوں کے نمونوں کی پیمائش اور ان کی جانچ کی ہے۔ ان کی تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ عظیم آتش فشاں کے سیال مادوں کا ذخیرہ محض چند سو سالوں میں پھٹ گیا۔

یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہاں بڑے آتش فشاں کا دھماکہ سات سو ساٹھ ہزار سال قبل ہوا تھا اور اس نے اپنی راکھ سے شمالی امریکہ کے نصف حصے کو ڈھک لیا ہوگا۔

ایسے بڑے آتش فشاں سے مواد نکل کر ہزاروں مربع کیلو میٹر پر پھیل سکتا ہے جو تاریخِ انسانی میں دیکھے گئے کسی بھی آتش فشاں کے دھماکے سے سینکڑوں گنا بڑا ہوتا ہے۔

اس طرح کے دھماکوں میں اتنی کثیر مقدار میں مادے کے اخراج سے عالمی موسم پر دیر پا اثر پڑنا لازمی ہے جس کے سبب کئی سال تک موسم کا متاثر رہنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

ایک نظریے کے مطابق انڈونیشیا کے ٹوبا جھیل میں ستّر ہزار سال قبل دھماکہ ہوا تھا اور اس سے دیر پا اثرات مرتب ہوئے تھے اور اس سے تقریباً تمام انسانی آبادی ختم ہو گئی تھی۔

سوپر والکینو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسوپر والکینو پر تحقیق جاری ہے

ان بڑح آتش فشانوں کے بننے کے بارے میں جو کچھ بھی معلومات ہیں ان کی بنیاد زرکن نامی مادے کے مطالعے پر مبنی ہے۔ اس میں ریڈیو ایکٹِو عناصر ہوتے ہیں اور ان کی عمر کا اندازہ انہی طریقوں سے کیا جاتا ہے جس سے ڈائناسور کی ہڈیوں کی عمر کا پتہ لگایا جاتا ہے یا جس کا آثار قدیمہ کے مطالعوں میں استعمال ہوتا ہے۔

زرقون یا زرکونیم پر مبنی مطالعے سے اب تک یہ کہا جاتا تھا کہ آتش فشاں کے پھٹنے اور اس کے نیچے وسیع سیال مادے کا تالاب تیار ہونے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔

ونڈربلٹ یونیورسٹی کے محققین کا اب کہنا ہے کہ لانگ ویلی کے مطالعے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ سیال مادے کے یہ پول پھٹنے میں صرف پانچ سو سال لیتے ہیں۔