نجی کمپنی کا خلائی مشن منسوخ

بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک صرف امریکا، روس، جاپان اور یورپ کے حکومتی اداروں کو ہی رسائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبین الاقوامی خلائی سٹیشن تک صرف امریکا، روس، جاپان اور یورپ کے حکومتی اداروں کو ہی رسائی تھی۔

کیلیفورنیا کی کمپنی ’سپیس ایکس‘ نے خلاء میں ایک کیپسول کے ذریعے بین القوامی خالائی سٹیشن کے لیے تقریباً آدھا ٹن سازوسامان بھیجنے کا منصوبہ معطل کر دیا ہے۔

ساز و سامان سے لدے ’ڈریگن‘ نامی اس خلائی جہاز کے اندر کوئی شخص موجود نہیں تھا۔

اس جہاز کو سپیس ایکس کے خود تیار کردہ راکٹ ’فیلکن 9‘ کے ذریعے خلاء میں بھیجا جانا تھا۔ پروگرام کے مطابق یہ پرواز فلوریڈا میں واقع ایئر فورس سٹیشن سے بھیجی جانے والی تھی۔

یہ پرواز روانگی سے چند لمحے قبل ہی روک لی گئی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا نظام چلانے والے کمپیوٹرز نے نوٹس کیا کہ اس کے نو انجنوں میں سے ایک میں ضرورت سے زیادہ ایندھن خارج ہو رہا ہے۔

اب اس مشن کی اگلی ممکنہ لانچ اگلے منگل کو ہوگی۔

سپیس ایکس کے چیف ڈیزائینر اور منتظمِ اعلی ایلن مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے’ انجن نمبر پانچ میں ایندھن کے زیادہ اخراج کی وجہ سےلانچ منسوخ کر دی گئی ہے۔ ہم کچھ ہی دنوں میں اسے صحیح کرکے دوبارہ پرواز کے لیے تیار ہوں گے۔ ‘

یہ پہلی بار ہے کہ کوئی نجی کمپنی یہ سہولت مہیا کر رہی ہو۔ عموماً یہ کام سرکاری ایجنسیاں جیسے کہ ’ناسا‘ یا ’ایسا‘ سرانجام دیتی ہیں۔

سنیچر کے روز پرواز سے قبل سپیس ایکس کے صدر گوین شاٹول کا کہنا تھا ’بے شک یہ ایک تاریخی پرواز ہے۔ اب تک صرف چار ممالک یا ممالک کے گروہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے منسلک ہوئے ہیں۔ امریکا، یورپ، روس اور جاپان۔ اسی لیے ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں اس طرح کا کام کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔‘

اگرچہ اس مشن کو نمائشی قرار دیا گیا ہے تاہم یہ مشن بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ امریکی حکومت کی جانب سے خلائی مشنوں کے بارے میں رویے میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

سپیس ایکس اور ایک نجی کمپنی ’اوربیٹل سائنسز کورپ‘، دونوں کو خلائی اڈے کو کھانے پینے کی اشیاء اور آلات سے لیس رکھنے کے ٹھیکے دیے گئے ہیں جن کی مالیت ایک ایک ارب ڈالر کے قریب ہے۔

اوربیٹل سائنسز کو امید ہے کہ وہ اپنے انٹاریز نامی راکٹ کی مدد سے ’سائگنس‘ کیپسول سسٹم اسی سال خلا میں بھیج پائیں گے۔

نجی کمپنیوں میں کام کی تقسیم کا مقصد حکومتی ایجنسیوں کو موقع دینا ہے کہ وہ زمین سے اور زیادہ دور جیسے کے مریخ پر جانے کے مشن کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

فیلکن راکٹ کی مدد سے پرواز تقریباً دس منٹ تک جاری رہے گی جس سے ڈریگن کیپسول کو زمین سے تین سو کلومیٹر بلندی پر پہنچا دیا جائے گا۔

اس خلائی جہاز کے پھر شمسی تونائی کے پینل چل پڑیں گے اور جہاز رانی کے نظام کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔

اگر آئندہ چند روز میں تربتی پروازیں کامیاب رہیں تو ڈریگن کو منگل کو بھیجا جا سکتا ہے۔