’دل کے علاج میں سٹیم سیلز کی مدد‘

دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کے لیے یہ ایک بڑی خبر ہے

،تصویر کا ذریعہspl

،تصویر کا کیپشندل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کے لیے یہ ایک بڑی خبر ہے

امریکہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دل کے دورے سے اسے پہنچنے والے نقصان پر مریض کے دل سے ہی حاصل کیے گئے سٹم سیلز کی مدد سے قابو پایا جا سکتا ہے۔

لانسیٹ میڈیکل جنرل میں شائع ہونے والی رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں چھوٹے پیمانے پر کیے گئے تجربے کے بعد سکارز ٹشوز کی مقدار آدھی رہ گئی تھی۔

اس رپورٹ کے مصنف کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ غیر یقینی طور پر دل کے نئے پٹھے بھی تیزی سے بڑھنے لگے ۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ ابھی ابتدائی مراحل ہیں لیکن دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کے لیے یہ ایک بڑی خبر ہے۔

انسان کو دل کا دورہ اس وقت پڑتا ہے جب خون کے بہاؤ میں کسی لوتھڑے کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹ دل میں آکسیجن کی مقدار میں کمی کا باعث بنتی ہے جس سے دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

جب دورے کا نشانہ بننے والے دل کا علاج شروع ہوتا ہے تو مردہ پٹھوں کی جگہ پر سکارز ٹشو استعمال کیے جاتے ہیں جو چونکہ دل کے اپنے پٹھوں کی طرح کام نہیں کرتے اس لیے دل کی جسم میں خون پمپ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

دنیا بھر میں ڈاکٹروں کو ایسے پٹھے چاہیے تھے جو دل کے اپنے پٹھوں کی طرح کام کریں اور خون کا بہاؤ معمول کے مطابق ہو سکے۔

اس نئی تحقیق کے بعد اب دل کے مریضوں کا ان کے اپنے دل سے حاصل کے گئے سٹم سیلز سے ہی تندرست کیا جا سکے گا۔

.