’اسپرین کا باقاعدہ استعمال نقصان دہ‘

،تصویر کا ذریعہOther
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ صحت مند لوگ جو دل کے دورے یا فالج کے حملے سے بچنے کے لیے اسپرین کا استعمال کرتے ہیں وہ اپنی صحت کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ایک لاکھ مریضوں پر کیے گئے جائزے کے مطابق بتایا گیا ہے کہ ایسے لوگوں میں جسم کے اندر خون کے رساؤ کا خطرہ بہت زیادہ تھا۔
برطانوی ماہرین کی قیادت میں کیے گئے اس مطالعے کے مطابق صرف اُنہی لوگوں کو اسپرین کا استعمال کرنا چاہئیے جنہیں یا تو دل کا عارضہ ہو یا فالج ہو چکا ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے اسپرین لینے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ہی کیا جانا چاہئیے۔
اسپرین نامی دوا دل اور فالج کے مریضوں کے لیے مددگار ہوتی ہے۔ یہ دوا خون کو شریانوں میں جمنے سے روکنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ دوا پہلے سے موجود خون کے جمے ہوئے لوتھڑوں کو کم کرکے فالج اور دل کے دورے کے مزید کسی امکان کو کم کرتی ہے۔
کچھ ایسی تجاویز بھی موجود ہیں جن کے مطابق اس دوا سے بعض اقسام کے کینسر سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔ تاہم اس دوا سے جسم کے اندر خاص طور پر دماغ میں خون کا رساؤ جاری ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین نے ایک لاکھ دو ہزار چھ سو اکیس مریضوں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا۔
ان کے مطابق اسپرین استعمال کرنے والے افراد میں دل کے دورے میں بیس فیصد کمی ہوئی اور دل کے دورے، فالج اور کینسر سے ہونے والی اموات میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ اسی دوران جسم کے اندر جان لیوا خون کے رساؤ میں تیس فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحقیق کے سربراہ پروفیسر کاؤسِک رے نے، جن کا تعلق لندن کی سینٹ جارج یونیورسٹی سے ہے، بی بی سی کو بتایا کے ’اگر آپ تہتر لوگوں کا چھ سال سے زائد عرصے سے علاج کر رہے ہوں تو ان میں سے کسی ایک میں آپ کو غیر معمولی خون کا رساؤ ملتا ہے۔‘
’ اور اگر اسی عرصے تک آپ ایک سو ساٹھ افراد کا علاج کرتے ہیں تو آپ ایک دل کے دورے کو بچا سکتے ہیں۔ ا س کا مطلب یہ ہوا کے اسپرین کے استعمال سے بڑے پیمانے پر فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ یقیناً زندگی میں اضافہ نہیں کرتی۔ اگر آپ بڑے پیمانے پر فائدے کے خواہش مند ہیں تو درحقیقت آپ کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ ‘







