بہت بڑا سیارچہ، زمین کے بہت قریب

فائل فوٹو، سایارچہ 2005 YU55

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیہ پچھلے دو سو سال میں زمین کے اتنے قریب سے گزرنے والا پہلا سیارچہ ہو گا۔

چار سو میٹر چوڑا سیارچہ رواں ہفتے منگل کو زمین کے قریب سے گزرے گا اور زمین سے اس کے فاصلے کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ فاصلہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے بھی کم ہو گا۔

2005 YU55 نامی سیارچہ گرین وچ وقت کے مطابق رات گیارہ بج کر اٹھائیس منٹ پر زمین سے تین لاکھ پچیس ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر گزرے گا اور اس کے زمین سے ٹکرانے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ نہ ہی یہ انسانی آنکھ سے نظر آئے گا۔

تاہم یہ پچھلے دو سو سال میں زمین کے اتنے قریب سے گزرنے والا پہلا سیارچہ ہو گا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے لانس بینر کا کہنا ہے ’اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک اتنے بڑے سیارچے کے زمین کے اتنے قریب سے گزرنے کا ہمیں وقت سے پہلے پتہ چل گیا ہو۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل دیگر سیارچے بھی زمین کے قریب سے گزر چکے ہیں خاص طور پر ’اپوفس‘ نامی سیارچہ جو سنہ دو ہزار انتیس اور چھتیس میں دوبارہ زمین کے قریب سے گزرے گا۔

ناسا کے مطابق علمِ فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے حضرات پندرہ سنٹیمیٹر یا اس سے بڑی ٹیلی سکوپ کی مدد سے YU55 2005 کی جھلک دیکھ پائیں گے۔