لندن: ڈرائیور کی لاش حنوط کر دی گئی

،تصویر کا ذریعہPA
برطانوی ڈرائیور کی لاش کو تین ہزار سال قبل استعمال کیے جانے والے طریقے کے تجربے کے لیے حنوط کر دیا گیا ہے۔
ڈیون کے ٹیکسی ڈرائیور 61 سالہ ایلن بیلیس کا انتقال رواس سال جنوری میں ہوا تھا۔ وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔
ایلن نے ایک ئبر پڑھی تھی کہ چینل فور پر حنوط کا تجربہ کرنے والا ہے اور اس کے لیے ان کو ایک لاش کی ضرورت ہے۔ یہ خبر پڑھنے کے بعد انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ ان کی لاش اس تجربے کے لیے استعمال کی جائے۔
ایلن کی بیوہ جین نے کہا ’میں اس ملک میں واحد بیوی ہوں جس کا شوہر ایک ممی ہے۔‘
یونیورسٹی آف یارک کے ڈاکٹر سٹیفن بکلی اور ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر جو فلیچر نے جدید آلات سے پتہ چلایا ہے کہ تین ہزار سال قبل حنوط کرنے کے لیے کیا استعمال کیا جاتا تھا۔
ایلن کی لاش کو ایک ماہ کے لیے نمک کے پانی میں ڈالا گیا اور جسم پر تیل لگایا گیا۔ اس کے بعد ان کے جسم کو کپڑے میں لپیٹا گیا اور تین ماہ تک سوکھنے کے لیے رکھا گیا۔
اپنی وصیت میں ایلن نے کہا ’اپنی لاش کو اس تجربے کے لیے عطیہ کرنے کا مقصد اپنے پوتوں اور نواسوں کو میرے بارے میں مزید معلوم ہو سکے۔ وہ اپنے سکول میں دوستوں کو بتائیں گے کہ ان کا دادا فرعون ہے۔‘
ایلن کی بیوہ جین نے کہا کہ ایلن نے صرف یہ کہا تھا کہ انہوں نے حنوط ہونے کے لیے کسی کو فون کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایلن کی لاش کو اس سال کے آخر تک شفیلڈ میڈیکو لیگل سینٹر میں رکھا جائے گا۔







