ناسا کے نئے سپیس لانچ سسٹم کی رونمائی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی خلائی ادارے ناسا نے انسانوں کو چھوٹے سیاروں اور مریخ پر پہنچانے میں استعمال ہونے والے ایک نئے خلائی راکٹ کے ڈیزائن کی رونمائی کی ہے۔
سپیس لانچ سسٹم یا ایس ایل ایس نامی یہ نظام اب تک کا تیار کردہ سب سے طاقت وار لانچر ہے اور یہ خلا بازوں کو چاند پر پہنچانے میں استعمال ہونے والے راکٹ سٹارن فائیو سے بھی زیادہ طاقت وار ہے۔
ناسا کا منصوبہ ہے کہ اس راکٹ کے اوپر خلابازوں کے لیے اورئن کیپسول نصب کیا جائے گا اور اس کیپسول کی تیاری کا عمل جاری ہے۔
ناسا کے مطابق اس راکٹ کو سنہ دو ہزار سترہ کے آخر تک خلاء میں روانہ کیا جا سکے گا۔
تجرباتی طور پر روانگی کے وقت اس میں عملہ نہیں ہو گا اور اس وقت تک اس منصوبے پر اٹھارہ ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔
راکٹ کے ڈیزائن کو منظرعام پر لانے کے موقع پر ناسا کے اعلیٰ اہلکار جنرل چارلس بولڈن کا کہنا تھا کہ ’آج امریکہ کی خلائی کھوج کا اگلا باب لکھا گیا ہے۔‘
’صدر اوباما نے ہمیں تبدیل کیا کہ بے باک بنیں اور کچھ بڑے کے خواب دیکھیں اور ہم نے بلکل ایسا ہی کیا۔‘
’اب جب میں سپیس شٹل میں سفر کرنے پر فخر محسوس کرتا ہوں اور کل کو ایک دن خلانورد مریخ پر واک یا چہل قدمی کرنے کا خواب دیکھیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایس ایل ایس راکٹ میں زیادہ تر ٹیکنالوجیز امریکہ کے ریٹائرڈ کیے گئے خلائی بیڑے سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان میں میں خلائی گاڑی کے مدار میں استعمال ہونے والا مرکزی انجن شامل ہیں۔
جولائی میں امریکہ نے اپنے خلائی بیڑے کو ریٹائر کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے اب اپنے طور پر خلا بازوں کو مدار میں نہیں پہنچا سکتا ہے اور اسے روس کے خلائی راکٹس پر انحصار کرنا پڑے گا۔
ابھی تک کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے کہ ایس ایل ایس راکٹ انسانوں کو کب اور کہاں خلا میں لے کر جائے گا، صدر اوباما نے ابھی تک صرف یہ کہہ ہے کہ سال دو ہزار پچیس میں خلاباز ان چھوٹے سیاروں( جو سورج کے گرد گھومتے ہیں، خاص طور پر مریخ اور مشتری کے درمیان‘ پر جائیں گے، اور اس کے بعد مستقبل میں کسی وقت مریخ پر جائیں گے۔







